فش فارمنگ اب ہو گئی آسان!

پشاور میں بائیو فلاک ٹیکنالوجی والا پہلا مچھلی گھر قائم کیا گیا ہے، جس میں دیسی اور بدیسی مچھلیاں نہایت آسانی سے پالی جا سکتی ہیں، یعنی مچھلیوں کی افزائش اب گھریلو طریقے سے بھی ممکن ہو گئی ہے۔

پشاور رِنگ روڈ پر پہلا بائیو فلاک ٹیکنالوجی پر مبنی مچھلی گھر قائم کیا گیا ہے، جہاں پانی کے ایسے ٹینکرز بنائے گئے ہیں جن میں ہر ایک میں 10 ہزار لیٹر پانی اسٹور کیا گیا ہے، اور ایک ٹینکر میں 800 سے 1500 تک مچھلیوں کی افزائش کی جا سکتی ہے۔ اس مچھلی گھر ’اسمارٹ بائیو فلاک فش فارم‘ کے مالک ہمایوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں روایتی طور پر جو ایک ایکڑ میں فارمنگ ہوتی تھی وہ اب دس بارہ ہزار لیٹر کے ٹینک میں ممکن ہو گیا ہے، اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اب ہم ایک ٹینک میں اتنی ہی پروڈکشن لے سکتے ہیں جتنی ہم پہلے ایک ایکڑ علاقے میں لیتے تھے۔

ان کا کہنا تھا اس نئے طریقے میں ایک تو پانی کا استعمال بہت کم ہو گیا ہے، پورا سال ایک ہی پانی ہوتا ہے، تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، جگہ بھی بہت کم درکار ہونے کی وجہ سے اب گھروں میں خواتین بھی آرام سے مچھلیوں کی فارمنگ کر سکتی ہیں جو کہ پہلے ممکن نہیں تھا۔ ہمایوں کے مچھلی گھر میں 20 سے زائد ٹینک بنائے گئے ہیں، جن میں ہزاروں مچھلیوں کی افزائش کا عمل جاری ہے، ان ٹینکس میں مچھلیوں کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے بھی خصوصی انتظام کیا گیا ہے، کیوں کہ چھوٹی جگہ پر سیکڑوں مچھلیاں پالی جاتی ہیں تو انھیں آکسیجن کی ضرورت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ صرف جگہ نہیں، اس فارم کے قیام کے لیے سرمایہ کاری بھی کم لگتی ہے، ایک عام روایتی فارم پر بہت پیسا خرچ ہوتا ہے لیکن اس ٹیکنالوجی کی مدد سے آپ 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک ایک ٹینک بنا سکتے ہیں۔