پاکستان میں فائیو جی کب تک لانچ ہوگی؟ حکومت نے زبردست اعلان کردیا

کالاشاہ کاکو(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر آئی و ٹیلی کام سید امین الحق نے کہا ہے کہ اگلے ایک دو سال میں فائیو جی کو پاکستان میں لانچ کردیا جائیگا،

اسلام آباد میں چند روز قبل فائیو جی کا تجربہ کامیابی سے کرچکے ہیں ، ورچوئل یونیورسٹی کالاشاہ کاکو کیمپس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دنیا میں چالیس سے پچاس ممالک فائیو جی ہیں ان میں بھی چند شہروں میں یہسروس موجود ہے جبکہ اکثریت میں فائیو جی سروس نہیں ہے، پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہیں جو آئی ٹی کے شعبہ میں تیزی سے ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے آئی ٹی کے شعبہ میں دو سالوں میں جتنا کام کیا ہے تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی،یہ سچ ہے کہ مہنگائی ہوئی ہے آٹا 35سے75روپے کلو اورشکر 65روپے سے سینچری مکمل کرگئی ہے مگر بہتری کے آثار بھی نظر آرہے ہیں ، بینک کا کرنٹ خسارہ کم ہوا ہے ، پاکستان کا زرمبادلہ 12ارب ڈالر سے بڑھ کر 20ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ سیمنٹ ، ٹائل ، آٹو موبائل، کنسٹرکشن اور آئی ٹی میں ایکسپورٹ بڑھ گئی ہے۔

معاشی انڈیکیٹر بتارہا ہے کہ پاکستان ترقی کی طرف جارہا ہے انہوں نے کہاکہ لاہور میں صرف ایک آئی ٹی پارک تھا اگلے ماہ کئی ارب روپے کی لاگت سے اسلام آباد اور کراچی میں بھی آئی ٹی پارک بنایا جارہا ہے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ تمام لوگوں کے ہاتھوں میں سمارٹ فون ہو۔2018.19میں ہماری ایکسپورٹ 995ارب ڈالر تھی جبکہ 30جون 2020جو 1.23کلوز کیا۔ پچھلے سال کی نسبت 24فیصد ایکسپورٹ زیادہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ 81فیصد آبادی کے ہاتھ میں موبائل فون ہے جبکہ 44فیصد آبادی برانڈبینڈ کی سہولت سے مستفید ہورہی ہے۔ حکومت دیہی علاقوں میں موبائل فون سروس فراہم کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کررہی ہے۔ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کےپسماندہ علاقوں میں موبائل فون سروس کی فراہمی کیلئے خصوصی کام کیا جارہا ہے۔

کورونا وبا کے باعث اتنی ترقی نہیں کرسکے جتنی ترقی ہونی چاہئے تھی۔تاہم حکومت موبائل سروس کی ترقی کیلئے دن رات کوشا ں ہے۔موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج اپوزیشن کا حق ہے مگر وقت سے پہلے احتجاج شروع کردیا ہے ،انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات سےکبھی انکارنہیں کیا ،مگر چند عناصر یہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات نہ ہو۔اپوزیشن جمہوریت کا حسن ہے اور ہونا بھی یہ چاہئے جب یہ لوگ تنقید کرتے ہیں تو حکومت ہم جیسے لوگ ان سے سیکھتے ہیں اور چیزیں بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔شیخ رشید سیزن سیاستدان ہیں انکی نظر اگلے دس سال پر بھی ہوتی ہے۔اپوزیشن کی تحریک کے غبارے سے ہوا نکلتی نظر آرہی ہے اور ٹوٹ پھوٹ کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔پچھلے سال اکتوبر میں مولانا فضل الرحمن نے لانگ مارچ کیا پورے ملک نے دیکھا 15دن کے بعد انہیں دھرنا ختم کرکے جانا پڑا۔ ہونا یہ چاہئے کہ ملک میں ہر صورت جمہوری روایات قائم رہنی چاہئے۔اور پارلیمنٹ کی بالادستی کو قائم و دائم رہنا چاہئے۔