ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومت دیکھے کیا یہ ملک و قوم کے مفاد میں ہے ، ماریہ سلطان

حکومت کو ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے ، ہمارے پاس اس حوالے سے کوئی نطام ہی نہیں ہے
بینکنگ سسٹم سے جو لوگ وابستہ ہے وہ آٹے میںنمک کے برابر ہیں، کتنے لوگ کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں،
ایف اے ٹی ایف کے بعد ہمارے کاروبار محدود ہو جائیں گے ، معشیت تباہ ہو جائے گی ، روزنیوز کے پروگرام ” سچی بات “ میں گفتگو
اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)ڈاکٹر ماریہ سلطان نے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایف اے ٹی ایف پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے ، آپ کے پاس نظام ہی موجود نہیں ، کریڈٹ کارڈ خریدو فروخت کے لئے استعمال کرنا ہو گا، جب آپ اوور قانون سازی کر لیتے ہیں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں، اس حوالے سے جلدی نہیں کرنا چاہیے، عوام کو دیکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہیں، ہمیں تیزی نہیں دکھانی چاہئے ، ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ اٹھا کر دنیا پاکستان سے مختلف مطالبات منوالیتی ہے ، یہ ایک معاہد ہے ، اسے دیکھنا ہو گا، کہ ایف اے ٹی ایف عوامی مفاد میں ہے یا نہیں، پاکستان میں بینکنگ سسٹم صرف 18فیصد ہے ، آپ کے کتنے لوگوں کوبینکوں کے ذریعے تنخواہ دیتے ہیں، دوسرا مسئلہ ہے کہ قرار داد اس حوالے سے پاس کردی تو دیگر مسائل پید اہونگے ، آکر آخر یہ آپ کیوں کرنا چاہتے ہیں، آپ کہیں ہم ترقی پذیر ہیں، آپ کہیں کہ ہم اس معاملے کو دیکھیں گے ، دنیا بھر میں حکومت بل پر دستخط کر الیتی ہے ، ہمیں ایف اے ٹی ایف سے کیا فائدہ ہے ، ہم ویسے بھی 2010میں بلیک لسٹ میں رہے ہیں، ایف اے ٹی ایف سے تجارت محدود ہو گئی ، جس کے پاس کریڈٹ کارڈ نہیں اکاﺅنٹ نہیں مطلب وہ دہشتگرد ہے ، ایف اے ٹی ایف سے فائدہ کس کو ہے ، آخر کیوں کر رہے ہیں، وہ اقدام اٹھائیں جو ملک و قوم اور اداروں کے مفاد میں ہو ۔
ڈاکٹر ماریہ سلطان