نیازی صاحب آپ نے جن چیزوں کی نشاندہی کی وہ سن کر بہت پریشان ہو گیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیچ لائن

سوچ اور عمل کے رویے جب تک تبدیل نہیں کریں گے حالات درست نہیں ہونگے،فخر امام
ادویات سستی ہونی چاہئے ، ہم مینو فیکچرنگ کی طر ف جانا ہو گا، سستے بازار لگانے کے تجویز اچھی ہے، عمران خان 22سال سے پبلک میں ہیں ، انہیں حالات علم بھی ہ
جس ذہن سے یہ ملک بنایا گیا وہ یہ تھا کہ شہری کو بنیادی سہولیات میسر ہوں ، اقتصادی حالات ایسے ہوں لوگوں کو روزگار ملے،عام شخص کی سہولت کیلئے حالات پر توجہ دینا ہو گی،
ذخیرہ اندوزوں نے مصنوعی قلت پیدا کر کے گندم کی قیمت بڑھا دی ، نقصانعام شہری کا ہوا،گندم بحران کا جو کھیل کھیلا گیا اس کا اثر ملک بھر پر بڑا، اتنی مہنگائی کے باجود لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں
کیا ہم قوم کیلئے کام کرتے ہیں ، یا ذاتی مفادات کے لئے ،دیکھنا یہ ہے قوم کیلئے کیا کر رہے ہیں ، بیڈ گورننس ہو رہی ہے ، یہاں لوگوں کیخلاف چارج شیٹ بن جاتی ہے اس کا کہیں آ کر اختتام نہیں ہو تا
قائد اعظم کے پاکستان اس لئے نہیں بنایا تھا کہ حالات خرا ب ہو ، حکومت کوشش کر رہی ہے کہ حالات کچھ نہ کچھ بہتر ہو ، بنیادی ضروریات زندگی کی چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں ،پروگرام سچی بات میں گفتگو
اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ فخر امام نے کہا کہ جس ذہن سے یہ ملک بنایا گیا وہ یہ تھا کہ شہری کو ایسے مواقع فراہم کئے جائیں جہاں بنیادی سہولیات میسر ہوں ، اقتصادی حالات ایسے ہوں کہ لوگوں کو روزگار ملے ، جس ذہن سے ملک معرض وجود میں آیا سوچنا چاہئے ، آپ نے سب کچھ درست کہا، میں تو زمینی حقائق کے قریب رہتا ہوں ، بنیادی ضروریات زندگی کی چیزیں مہنگی ہو گئی ہیں ، جن چیزوں کی فروانی ہوتی ہے اس کی قیمت کم ہو جا ناچا چاہئے ، گندم کو لے لیں ، کیا ہوا، 1300روپے پر گندم کی خریداری ہوئی دسمبر میں ایک دم قیمت بڑھا دی ، حکومت نے کوشش کی کہ قیمت کنٹرول ہو، ذخیرہ اندوزوں نے مصنوعی قلت پیدا کر کے گندم کی قیمت بڑھا دی ، نقصانعام شہری کا ہوا، چینی اور گندم کے سکینڈل کے حوالے سے کہا کہ 40لاکھ ٹن گندم خریداری کی تھی ، گندم بحران کا جو کھیل کھیلا گیا اس کا اثر ملک بھر پر بڑا ، اب 66لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی گئی ، لیکن گندم آ بھی گئی، پیداوار ٹارگٹ سے کم ہوئی، اتنی بھی کم نہ تھیلیکن چند لوگ اس حوالے سے گیم کھیلتے ہیں ، انہوں نے گندم کی قلت پیدا کی انہوں نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادارے کام کیوں نہیں کر رہے ، یہ اداروں کے سربراہوں کی ذمہ داری ہے ، انہوں نے کہا کہ اتنی مہنگائی کے باجود لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں ، آپ چین کو دیکھ لیں 1979;47;78 میں چین نے ایسا ماحول پیدا کیا لوگو کو مواقع دیئے دنیا کے سرمایہ کار وہاں گئے ، عمران خان کی بھی ایسی ہی خواہش ہے ، سی ڈی اے کے کچھ افسران ہیں جو اداے میں نہیں آتے ، یہ ان کی کوتاہی ہے ، اس کا رد عمل یہ ہو سکتا ہے کہ ان کا انچارج ایکشن لے ، ایک اچھے گورننس کی ضرورت ہے ، آئین کے تحت رولز آف بزنس بنتے ہیں ، اس نظام کو ریفارمز کر نے کی ضرورت ہے ، 1970 میں ون مین ون ووٹ کے اعتبار سے الیکشن ہوا، 1965سے 1969تک جنرل الیکشن ہوائے ، اب 85سے نان پارٹی الیکشن ہوئے ، 2018-2013-2007کو پارٹی الیکشن ہوئے ، انتخابات میں آرمڈ فورسز کے لوگوں نے ڈیوٹیاں دیں ، جو جیت جاتا ہے وہ کہتا ہے الیکشن شفاف ہوئے ، جو ہار جاتا ہے وہ شور مچاتا ہے ، بہت سے ملک ہم سے ترقی کر گئے نظام کے ساتھ ضروری ہے کہ ہم کیا کر تے ہیں ، کیا ہم قوم کیلئے کام کرتے ہیں ، یا ذاتی مفادات کے لئے ، زیادہ تر ذاتی مفادات کیلئے کام کررہے ہیں ، دیکھنا یہ ہے کہ قوم کیلئے کیا کر رہے ہیں ، بیڈ گورننس ہو رہی ہے ، یہاں لوگوں کیخلاف چارج شیٹ بن جاتی ہے اس کا کہیں آ کر اختتام نہیں ہو گا، نیازی صاحب آپ نے جن چیزوں کی نشاندہی کی وہ سن کر بہت پریشان ہو گیا ہوں ، مہنگائی کا تو علم ہے ، فخر امام نے کہا کہ عمران خان 22سال سے پبلک میں ہیں ، انہیں حالات علم بھی ہے ، مہنگائی ہے کچھ قصور حکومتی اہلکاروں کا ہے ، کچھ لوگوں نے شور زیادہ مچایا ہوا ہے ، ذخیر اندوزوں نے گندم کی قیمتیں بڑھائیں ، گندم کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کا اختیار ہے ، انہوں نے کہا کہ اب جو حالات ہیں مثلاً پرائس کنٹرول مجسٹریٹس شپ پر انتے یہ اتنے موثر نہیں رہے ، انہوں نے کاہ کہ سندھ میں ان لوگوں اوپن مارکیٹ چھوڑ ی ہوئی تھی ، پنجاب نے تین ماہ قبل گندم فراہمی کا بندوبست کیا، پنجاب میں گندم کی قیمت سندھ اور کے پی سے بہتر ہیں ، یعنی کہ پنجاب میں حالات بہتر ہیں ، یہ اور بات ہے کہ قیمتیں اس سطح پر نہ آئیں جس طر کہ ہم چاہ رہے تھے، ہمارے ترجیح تھی کہ گندم ہر شہری تک پہنچے ، عام شہری ہی حکومت بناتا ہے ، قائد اعظم کے پاکستان اس لئے نہیں بنایا تھا کہ حالات خرا ب ہو ، حکومت کوشش کر رہی ہے کہ حالات کچھ نہ کچھ بہتر ہو ، سستے بازار لگانے کے حوالے سے حکومت پنجاب سے میں بات کرونگا ، ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے کہا کہ سارہ افضل تارڑ نے تین پوائنٹ اٹھائے ہیں ، متعلقہ افراد ہی اس کا صحیح جواب دے سکتے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ ان کی باتوں میں سچائی ہو سکتی ہے، ادویات مہنگی ہوئی ہیں ، ہم مینو فیکچرنگ کی طر ف گئے نہیں آپ پیسی ساءٹ پر جائیں وہ بھی بار سے منگاتے ہیں ، کوئی انڈسٹری نہ تھی ، معیشت کی کوئی پالیسی نہیں کسی حکومت نے اس طرف توجہ نہ دی ، ہم اس طرف توجہ نہ دی ، جاپان ، چین، بھارت نے اس طرف توجہ دی ، عام شخص کی سہولت کیلئے حالات پر توجہ دینا ہو گی، ادویات سستی ہونی چاہئے ، سوچ اور عمل کے رویے جب تک تبدیل نہیں کریں گے حالات درست نہیں ہونگے ۔