شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

لاہور(نیوز ڈیسک) احتساب عدالت نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت27اکتوبر تک ملتوی کردی ہے. احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ ریفرنس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے زیر حراست ملزمان کو کمرہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا اور استفسار کیا کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف ابھی تک کیوں پیش نہیں ہوئے ؟.

جس پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ کوشش ہوتی ہے جلدی لایا جائے مگر ملزم خود جلدی نہیں نکلتا شہباز شریف نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آپ کے گزشتہ نوٹس پر میرے کھانے کا معاملہ حل ہو گیا ہے لیکن مجھے کمر کا مسئلہ ہے.انہوں نے کہا کہ یہ سب وزیر اعظم عمران خان اور شہزاد اکبر کے کہنے پر کیا جا رہا ہے میری کمر میں درد کی وجہ سے مجھے تھیراپی کروانے کی اجازت دی جائے ایک شخص کو وہاں تکلیف دینا چاہتے ہیں جہاں اسے پہلے ہی تکلیف ہے.

سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف کو مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں‘شہباز شریف نے عدالت سے استدعا کی کہ انہوں نے کمر درد کے لیے گھر سے اسپیشل کرسی منگوائی تھی جو نیب نے لے لی انہیں کرسی واپس دلائی جائے. شہبازشریف نے کہا کہ جج صاحب سب کو علم ہے مجھے کمر کا درد ہے اس کے لیے جو اسپیشل کرسی میں نے گھر سے منگوائی تھی وہ عمران خان اور شہزاد اکبر کے حکم پر نیب نے لے لی گئی شہباز شریف نے کہا کہ مجھے عام کرسی فراہم کی گئی ہے جس پر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں اور کھانا کھاتا ہوں اس کے باعث کمر درد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ایک شخص کو وہاں تکلیف دینا چاہتے ہیں جہاں اسے پہلے ہی تکلیف ہے یہ کہاں کا اصول اور انصاف ہے عدالت سے درخواست ہے کہ نیب والوں کو قانون کے مطابق حکم دیں کمر درد کی وجہ سے مجھے تھراپی کروانے کی اجازت دی جائے.عدالت نے کہا کہ آپ باقاعدہ درخواست لکھ کر دیں تفصیلی حکم جاری کردیں گے عدالت نے شہباز شریف کو ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرتے ہوئے کیس کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی.