حکومتی حکمت عملی کا توڑ پی ڈی ایم نے گرفتاریوں کیخلاف ہنگامی منصوبہ تیار کرلیا

اسلام آباد،لاہور (نیوز ڈسک)اپوزیشن کی 11 جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے منصوبہ بنایا ہے کہ اگر پہلے جلسے سے قبل ان کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ گوجرانوالہ اور اس سے ملحقہ علاقوں تک بڑھا دیں گے۔تفصیلات کے مطابق 11 جماعتوں کے اتحاد کی صورت میں بننے والی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا پہلا جلسہ 16 اکتوبر کو صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ہوگا ۔اس حوالے سے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ پی ڈی ایم کے 15 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں گرفتاریوں کے بعد کی حکمتِ عملی کو حتمی شکل دی جائے گی ۔

انہوں نے کہاکہ ہنگامی منصوبے کے طور پر، گجرات، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور لاہور سمیت دیگر علاقوں سے گوجرانوالہ جلسے کیلئے جانے والے شرکا کو علاقوں کی اہم سڑکوں پر دھرنا دینے کی ہدایت کی گئی ہے، مزید یہ کہ یہ وہ وقت ہوگا جب احتجاج کا اثر پورے خطے میں پھیلائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امن و امان کی خراب صورتحال میں کسی بھی غیر آئینی اقدام سے ہوشیار رہتے ہوئے اپوزیشن کی یہی کوشش ہے کہ سیاسی کارکنان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، اپوزیشن یا پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے درمیان کوئی جھڑپ نہ ہو۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کوفری ہینڈ نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنانے کیلئے وفاق سے مشاورت شروع کر دی،اپوزیشن کے مر کزی قائدین کی نظر بندیوں سمیت دیگر آپشنز بھی استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے وفاق سے مشاورت اور اپوزیشن جماعتوںکی بھر پور سیاسی سر گر میاں شروع ہونے کے بعد اپوزیشن کو احتجاجی جلسوں کے معاملے پر فری ہینڈ نہ دینے کی پالیسی اختیار کر نے کا منصوبہ بنالیا ہے۔پولیس سمیت دیگر اداروں سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔