کیا کراچی کے ساحل سے متصل جزائر ترقی کے لیے قابلِ عمل ہیں؟

کراچی:وفاقی حکومت کی جانب سے حال ہی میں صدارتی آرڈینینس کے ذریعے تحویل میں لیے گئے جڑواں جزائر بنڈل اور بڈو کورنگی کریک کے قریب 10 ہزار ایکڑ سے زائد کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

2006 اور دوسری بار 2013 میں حملہ کیا گیا تھا، یہ ایک بار پھر اس وقت نظروں میں آئے جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت نے یکطرفہ طور پر ان کا کنٹرول سندھ حکومت سے حاصل کرلیا، جس کے بعد حکومت سندھ نے وفاق کے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت مزاحمت کا عہد کیا۔

واضح رہے کہ جہاں یہ جزائر موجود ہیں وہاں کے ماحول کا جائزہ لینے کے حوالے سے حال ہی میں کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔

ورلڈ وائڈ فار نیچر پاکستان (ڈبلیو ڈبلیو ایف – پی) کے 2008 میں کیے جانے والے سروے کے مطابق یہاں مچھلیوں کی 96، پرندوں کی 54 اور سمندری ڈولفن اور کچھووں کی 3 اقسام (اسپیسیز) موجود ہیں، جبکہ 3 ہزار 349 ایکڑ رقبے پر مینگروو پھیلے ہوئے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف–پی کے علاقائی ڈائریکٹر طاہر رشید نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آلودگی کے دباؤ سے اس جگہ کا ماحولیاتی نظام پہلے ہی بہت خراب ہے جو کسی (کنکریٹ) تعمیر کی وجہ سے شدت اختیار کرجائے گا، ہمارے پاس اس خطے کا ماحولیاتی آڈٹ ہونا چاہیے تاکہ اس کے تحفظ کے لیے حکمت عملی وضع کی جاسکے، تاہم یہ ماحولیاتی سیاحت کا بالکل متحمل نہیں ہے۔

انہوں نے کنوینشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی کے آرٹیکل 8 (اے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس کا دستخط کنندہ ہے اور یہ ضروری ہے کہ وہ مقامی لوگوں کے معاشرتی، ثقافتی مفادات کا تحفظ اور احترام کرے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایسکپورٹ پراسیسنگ زون سمیت کراچی کے صنعتی علاقوں سے فضلے کے بہاؤ کی وجہ سے کورنگی کریک سب سے زیادہ متاثر ہونے والا آبی ذخیرہ (واٹر باڈیز) میں سے ایک ہے جبکہ بھینس کالونی سے مسلسل گندے پانی کے بہاؤ نے بھی آلودگی میں اضافہ کیا ہے۔