اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں ’منی اسمارٹ‘ لاک ڈاؤن نافذ

اسلام آباد: روزمرہ سرگرمیاں بحال ہونے کے 4 ہفتوں بعد ہی وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں ’منی اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ نافذ کردیا گیا۔

اس حوالے سے وزارت قومی صحت سروس (این ایچ ایس) کے جاری کیے جانے والے حکم میں بتایا گیا تھا کہ اتوار کی صبح سے دارالحکومت کی متعدد گلیوں کو بند کیا جائے گا۔

مذکورہ حکم میں کہا گیا کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس (ڈی ایچ او) کی ٹیمز نے مختلف سیکٹرز کی نگرانی کی اور ان کے مشاہدے میں یہ بات آئی کہ گلی نمبر 38، 44 ،45 ،46 ،47، 48 اور سیکٹر جی 10/4 میں ساون روڈ کے علاقوں میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

حکم میں مزید بتایا گیا کہ یہی صورتحال آئی-8/2 میں گلی نمبر 25 اور 29 میں جبکہ جی-9/4 میں گلی نمبر 85 اور 89 میں بھی دیکھنے میں آئی، مزید یہ کہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کی ٹیمیں ان علاقوں میں سیمپلنگ کررہی ہیں تاکہ ان علاقوں کے رہائشیوں کو قرنطینہ کرکے کورونا کیسز کی تعداد کو مزید برھنے سے روکا جاسکے۔

نیشنل ہیلتھ سروس کی ہدایت میں یہ تجویز دی گئی کہ ان گلیوں کو اسمارٹ لاک ڈاؤن کرکے بند کردیا جائے گا، مزید یہ کہ نگرانی کرنے والی ٹیمیں دوسرے علاقوں میں بھی وسیع پیمانے پر نمونے لینے کا کام کریں گی۔

یاد رہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے کراچی کے مختلف علاقوں منگھوپیر، ڈیفنس فیز 8 میں کریک وسٹا اپارٹمنٹ اور صدر کے سب ڈویژن میں کورونا کیسز کی تعداد بڑھنے کے بعد منی اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا تھا۔

دوسری جانب اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) محمد حمزہ شفقات نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کورونا کیسز کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے حکام رہائشی کمپاؤنڈز اور گلیوں میں جہاں انفیکشن پھیلا ہے وہاں منی اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کر رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نگرانی کے بعد جی-9، جی-10 اور آئی-8 کی کچھ گلیوں کے ہاٹ اسپاٹ بننے کا انکشاف ہوا جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔

محمد حمزہ شفقات نے کہا کہ اتوار سے اس کا اطلاق ہوگا جبکہ علاقہ مکینوں کو ضروری سامان خریدنے کا کہہ دیا گیا تھا جبکہ پولیس کو بھی آگاہ کردیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جی-8 اور بھارہ کہو سمیت 5 مزید علاقے بھی ہاٹ اسپاٹ کے طور پر ابھر رہے ہیں جنہیں بند کیا جائے گا۔