جامعہ کراچی ہراساں کیس: چھ کم عمر لڑکوں کی ضمانت منظور

کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ نے جامعہ کراچی میں طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار 6 نوعمر ملزمان کی ضمانت منظور کرلی۔

پولیس نے ان ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا تھا اور کیمپس میں طالبات کو ہراساں کرنے کے الزام میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

ان ملزمان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ سب جامعہ کراچی کے ملازمین کے بچے ہیں۔

تفتیشی افسر نے انہیں عدالتی مجسٹریٹ (شرقی) کے سامنے پوچھ گچھ اور تفتیش کے لیے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے پیش کیا تھا

تاہم ملزمان نے گرفتاری کے بعد ضمانت کی منظوری کے لیے اپنے وکیل دفاع کے ذریعہ درخواست دائر کی تھی۔

وکیل دفاع نے پولیس ریمانڈ کے لیے تفتیشی افسر کی درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ نابالغ ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ میرٹ پر نہیں ہے۔

انہوں نے جج سے گرفتاری کے بعد ضمانت منظور کرنے کی درخواست کی۔

سرکاری استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد جج نے ہر ملزم کو 20، 20 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ضمانت منظور کرلی۔

جج نے ملزمان کے ریمانڈ کے لیے تفتیشی افسر کی درخواست کو مسترد کردیا اور ملزمان سے کہا کہ وہ اس کیس کی تحقیقات کے دوران پولیس سے تعاون کریں۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل یونیورسٹی انتظامیہ نے جامعہ کراچی کے احاطے میں انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے طلبہ کو ہراساں کرنے کے الزام میں ملزمان کو مبینہ ٹاؤن تھانے کے حوالے کردیا تھا۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب فیس بک پر ایک صارف نے جامعہ کراچی کے اندر نوجوانوں کے گروپ کی جانب سے پیچھا اور ہراساں کرنے سے متعلق پوسٹ شیئر کی تھی جس کے بعد سے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا تھا۔

سید شہیر علی نامی ایک صارف نے بتایا کہ ان کے ساتھ دو خواتین دوست تھیں جن میں سے ایک کو کراچی یونیورسٹی کیمپس کے اندر واقع انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گرلز ہاسٹل چھوڑا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اپنی دوسری دوست کے ہمراہ واپس جارہے تھے کہ موٹر سائیکلوں پر سوار لڑکوں کے ایک گروپ نے گاڑی کو گھیرے میں لیا اور گاڑی سے باہر نکلنے کا کہا۔

شہیر علی نے بتایا کہ وہ گاڑی تیزی سے چلا کر آئی بی اے کے بوائے ہاسٹلز پہنچے لیکن لڑکوں نے ایک مرتبہ پھر ان کی کار کو گھیرے میں لے لیا اور لڑکے گاڑی کے شیشوں پر زور زور سے ہاتھ مار کر کہہ رہے تھے ‘لڑکی کو باہر نکال، گاڑی روک’۔
شہیر علی نے بتایا کہ وہ دونوں گروہ سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب رہے جبکہ نوجوانوں کی عمریں 15 سے 25 سال کے درمیان تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران انہوں نے گارڈز کو اس واقعے سے آگاہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد سے ان کی دوست صدمے کی حالت میں ہیں اور وہ اس واقعے کو ‘موٹروے جیسا ایک اور ممکنہ واقعہ’ سوچ کر سونے سے قاصر ہیں۔

شہیر علی نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی واقعے سے آگاہ کردیا گیا جو ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔