شادی ہالز میں تقریبات کا دورانیہ 2 گھنٹے کرنے کا فیصلہ

لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کورونا کیسز میں اضافے کے بعد نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے شادی ہالز کے لیے کورونا گائیڈ لائنز جاری کردیں۔

اپنے بیان میں این سی او سی نے کہا کہ اگر شادی ہالز میں معیاری طریقہ کار پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو قومی سطح پر کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

این سی او سی کی جانب سے شادی ہالز کے لیے مندرجہ ذیل گائیڈ لائنز جاری کی گئی ہیں:

اندرونی مقام پر تقریبات میں 300 سے اور کھلے مقام پر تقریبات میں 500 افراد شرکت کرسکیں گے۔
تقریبات کا دورانیہ صرف دو گھنٹے ہوگا اور تقریب رات 10 بجے تک ختم کردی جائے گی۔
کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کے ساتھ شادی ہالز کو سیل بھی کردیا جائے گا۔
این سی او سی نے اپنے الگ بیان میں کہا کہ اکثر ممالک میں اب تک بڑے عوامی اجتماعات پر پابندی ہے، تاہم اگر مخصوص تقاریب ضروری ہیں تو ان میں سختی سے ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ عوامی اجتماعات کے انعقاد سے متعلق مزید مشاورت جاری ہے، جس مشاورت کے بعد عوامی اجتماعات سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل این سی او سی کے اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا تھا کہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووِڈ 19 کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بن رہے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس وائرس کا گڑھ بن رہے ہیں اور اگر اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل کیا جائے تو اضافے کو روکا جاسکتا ہے۔

این سی او سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک عہدیدار نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا تھا کہ آئندہ چند ہفتے اہم ہیں اور اگر انفیکشنز میں مزید اضافہ ہوا تو شادی ہالز اور ریسٹورنٹس دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ عوام نے صحت پروٹوکولز کو نظر انداز کرنا شروع کردیا ہے مثلاً ماسک پہننا، سماجی فاصلہ برقرار رکھنا جو تشویش کی بات ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم نے بھی خبردار کیا تھا کہ کووِڈ 19 کی بیماری سردیوں میں مزید پھیل سکتی ہے۔