زلفی بخاری اور شیری رحمٰن کے درمیان ٹوئٹر پر لفظی جنگ

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید زلفی بخاری اور پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے باہر سے واپس آنے والے پاکستانیوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ پر ٹوئٹر پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کردیے۔

زلفی بخاری اور شیری رحمٰن کے درمیان لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب شیری رحمٰن نے ٹوئٹر پر دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے واپس آنے والے تمام پاکستانیوں کے ٹیسٹ کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

انہوٖں نے کہا کہ پاکستان میں 21 فیصد کیسز باہر سے آنے والے پاکستانیوں کے ہیں اور اس طرح کی پالیسی سے پاکستان کورونا وائرس کا نیا مرکز بن جائے گا۔

زلفی بخاری نے شیری رحمٰن کے ٹوئٹ کا جواب دیا کہ معلومات غلط ہیں اور دعویٰ کیا کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کے صرف 6 فیصد کیسز ہیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے پی پی پی سینیٹر پر الزام عائد کیا کہ مشکل صورت حال میں سیاسی فوائد کے لیے بے یار و مددگار سمندر پار پاکستانیوں کو تکلیف دی جارہی ہے۔

اگلے روز شیری رحمٰن نے ٹوئٹس کا ایک اور سلسلہ شروع کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘بین الاقوامی سرحدوں میں ٹیسٹنگ کی اہم ضرورت بدظنی بن گئی جبکہ غریب سمندر پار پاکستانیوں کو کئی ماہ تک بغیر وسائل چھوڑا گیا’۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ سندھ نے جدہ سے واپس آنے والی ایک پرواز کا ٹیسٹ کیا اور 123 کیسز سامنے آئے لیکن وفاقی حکومت واپس آنے والے شہریوں کے ٹیسٹ ہی نہیں کررہی۔

پی پی پی سینیٹر نے کہا کہ یہ بتانے کا وقت ہے کہ پی ٹی آئی ٹیسٹنگ کو داغ سمجھتی ہے اور یہی اس کا حاصل ہے۔

زلفی بخاری نے ایک مرتبہ پھر جواب دیتے ہوئے مسافروں کی چند تصاویر جاری کیں جس میں انہیں ایئرپورٹ میں ٹیسٹ کے لیے نمونے دیتے ہوئے دکھایا گیا۔

انہوں نے لکھا کہ پی پی پی نے قوم سے جھوٹ بول کر اپنی غلطیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔

زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو کووڈ پھیلانے کا ذمہ دار قرار دینا بند کرکے سندھ کے لوگوں پر توجہ دی جائے۔

معاون خصوصی کو جواب دیتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ امید ہے کہ ٹیسٹ دوبارہ شروع ہوں گے لیکن عملی طور پر حقائق اس کے برعکس ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ روز کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرگئی تھی جس کے بعد زلفی بخاری اور شیری رحمٰن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوئی تھی جبکہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت ایک دوسرے پرغفلت کے الزامات عائد کررہی تھیں۔

وفاقی حکومت نے 4 جون کو اعلان کیا تھا کہ ملک واپس آنے والے مسافروں کوٹیسٹ کے نتائج آنے سے قبل ہی بغیر قرنطینہ کے گھروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔

سندھ اورپنجاب دونوں حکومتوں نے اس پالیسی کی مخالفت کی تھی تاہم وفاق نے اس پر عمل درآمد شروع کرچکا ہے۔