کمرشل بینکوں میں وفاقی حکومت کے تمام اکاؤنٹس بند کرنیکی ہدایت

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی وزارت خزانہ کے فیصلے کی روشنی میں وفاقی حکومت کے کمرشل بینکوں میں تمام اکاؤنٹس بند کرکے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سنگل ٹریژری اکاؤنٹ میں رقوم جمع کرانے کی ہدایت جاری کردی ہے۔اسٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو سرکلر جاری کردیا ہے۔ سرکلر میں تمام وفاقی اداروں کے اکاؤنٹس بند کرکے رقوم حکومت پاکستان کے مرکزی اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ اگلے مرحلے میں صوبائی حکومتوں کے محکموں کی رقوم بھی حکومت پاکستان کے مرکزی اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائیں گی۔

بینکنگ انڈسٹری کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے محکموں کے کمرشل بینکوں میں اکاؤنٹس بند ہونے سے بینکوں کے ڈپازٹس میں نمایاں کمی آئے گی بالخصوص سرکاری کمرشل بینک اور دفاعی اداروں کو تنخواہیں جاری کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کمرشل بینک کے ڈپازٹ نمایاں طور پر کم ہوں گے۔ کمرشل بینکوں میں وفاقی حکومت کے اداروں کی جمع شدہ رقوم کی مالیت اگست 2020 میں 1400 ارب روپے ریکارڈ کی گئی جو بینکنگ ڈپازٹ کا 9 فیصد ہے۔ماہرین کے مطابق ڈپازٹ منتقل ہونے اور وفاقی اداروں کے اکاؤنٹس بند ہونے سے کمرشل بینکوں کا ریونیو بھی کم ہوگا اور انھیں ڈپازٹ بڑھانے کے لیے مسابقت کے ساتھ کھاتے داروں کو بہتر منافع اور ترغیبات دینا ہوں گی۔