امریکا کو اپوزیشن کی جانب سے مولانا کو قائدانہ کردار دینے پر تحفظات

لاہور : سینئر صحافی شاہین صہبائی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے احتجاجی منصوبوں اور بالخصوص ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے مولانا فضل الرحمن کو قائدانہ کردار دینے کے متعلق واشنگٹن کے پالیسی ساز کچھ متفکر ہیں۔امریکی سوچتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان افغان مذاکرات کے لیے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ وہ سالوں تک طالبان رہنماؤں کے استاد رہے ہیں اور اب بھی ان پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
اگر انہوں نے کچھ برا کھیل کھیلنے کی کوشش کی تو امریکی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اس لیے ایسی کوششیں ہو رہی ہیں کہ اپوزیشن اتحاد کو قائل کیا جائے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کا کردار محدود کریں۔مولانا فضل الرحمان کو دو بڑی جماعتوں نے قائدانہ کردار دیا ہے۔
کیونکہ ان کے پاس سٹریٹ پاور کی کمی ہے۔مولانا کے پاس مذہبی مدرسوں کے طلبا کی طاقت جس کا مظاہرہ وہ 2019ء میں اسلام آباد میں کر چکے ہیں۔

لیکن تب دونوں بڑی جماعتوں کو ڈیل کرنے پر کچھ رعایت مل گئی تھی اور انہوں نے مولانا کا ساتھ نہیں دیا جنہیں شرمندگی میں گھر واپس جانا پڑا۔اس بار وہ کافی عقلمند ہیں اور اپنے خیال سے بھی دو گنا قیمت لگا رہے ہیں۔انہوں نے پکے وعدوں کی یقین دہانی مانگی ہے کہ ہر کوئی پارلیمنٹ سے استفعیٰ دے گا۔انہیں یقین ہے اور خدشہ بھی ہے کہ اگر صورتحال خراب ہوئی تو بڑی جماعتیں دوبارہ انہیں تنہا چھوڑ دیں گی۔

پارلیمنٹ میں حصہ ان کا واحد اور پرزور مطالبہ ہے۔اور اسی کے لیے وہ نئے انتخابات چاہتے ہیں،۔ایسا تبھی ممکن ہے جب موجودہ پارلیمنٹ تحلیل ہو جائے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف)اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وفد کے ہمراہ مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت سے جاتی امراء رائے ونڈ میں ملاقات کی ، وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں ملک کی مجموعی صورتحال، نیب کیسز ،شہباز شریف کی گرفتاری ، حکومت مخالف تحریک میں شدت لانے ،پی ڈی ایم کے 16اکتوبر کو ہونے والے جلسے بارے تبادلہ خیال اور آئندہ کی حکمت عملی بارے مشاورت کی گئی ، رہنمائوںنے اس عزم کااظہار اور اتفاق کیا کہ حکومت کے خلا ف تحریک کا فیصلہ اٹل ہے ،پی ڈی ایم کے جلسوں میں عوامی مسائل اور حکومتی نااہلیوں کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا جائے گا اورتحریک میں مرحلہ وار شدت لاکر حکمرانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا ۔