8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ: ‘بچوں نے متاثرین کی مدد کیلئے اپنے کھلونے تک فروخت کیے’

مظفرآباد: وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے قیامت خیز زلزلے کے بعد ہماری امداد کے لیے پاکستانی بچوں نے اپنی گھڑیاں اور کھلونے تک فروخت کیے۔

وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق کا شہدائے زلزلہ کی یاد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ زلزلہ خیبرپختونخوا میں بھی آیا مگر جس محبت کا اظہار کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سربراہان اور اداروں کے شکرگزار ہیں کہ ہماری مدد کی، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھنا ہے، ایل اوسی پربھارتی فوج کی فائرنگ بھی ایک بڑی آفت ہے۔

راجہ فاروق حیدر کا مزید کہنا تھا کہ زلزلہ بڑی آزمائش تھی جس سے عزم کے ساتھ عوام باہر نکلے، عالمی برادری نےجس انداز سے ہماری مدد کی اسکی مثال نہیں ملتی، مظفرآباد اس وقت گلوبل ولیج کا منظر پیش کررہا تھا۔

خیال رہے کہ 8 اکتوبر 2005 کو آزاد کشمیر سمیت ملک کے شمالی علاقے میں آنے والے قیامت خیز زلزلے کو 15 سال بیت گئے مگر جانے والوں کی یاد آج بھی تازہ ہے۔

8اکتوبر 2005کو صوبہ پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 7.6ریکٹر اسکیل کی شدت سے آنے والا زلزلہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور2005ء میں دنیا کا چوتھا بڑا زلزلہ تھا۔