سندھ حکومت نے جزائر سے متعلق وفاقی حکومت کا صدارتی آرڈیننس مسترد کردیا

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی حکومت سندھ نے وفاقی حکومت کی جانب سے جزائر کو اپنی تحویل میں لینے کے لیے جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کو مسترد کردیا۔

کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراطلاعات ناصر حسین شاہ کے ہمرا پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان حکومت سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کابینہ نے اس آرڈیننس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے فیصلے کو متفقہ طور پر مسترد کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے اس عمل کی مذمت کی اور مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی حکومت فی الفور پاکستان آئی لینڈز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا غیرقانونی اور غیر آئینی آرڈیننس اپس لے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کی زمین اور اختیارات پر تجاوزات کے ذمرے میں آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت ان جزائر کے حوالے سے عرصہ دراز سے کہتی چلی آئی ہے کہ یہ جزیرے صوبہ سندھ کی حکومت اور سندھ کے عوام کی ملکیت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وفاقی حکومت نے سندھ حکومت سے کہا کہ یہ جزائر ہمارے ہیں اور اس پر ڈیولپمنٹ کرنا چاہتے ہیں تو واضح کردیا گیا تھا کہ یہ جزائر صوبہ سندھ کی حکومت اور عوام کی ملکیت ہے۔

ترجمان حکومت سندھ نے کہا کہ جو شخص یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ صوبائی حکومت نے سندھ کا مقدمہ نہیں لڑا اور اپنا قانون حق استعمال نہیں کیا تو میں اس کی نفی کرتا ہوں اور برملا کہوں گا کہ یہ جزائر سندھ کی حکومت اور عوام کی ملکیت تھے، ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے، یہ آئین پاکستان کہتا ہے جس پر عمل کرنا ہم سب کی اولین ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے عوام کی ترقی کے لیے سندھ حکومت ہمیشہ بات کرنے کو تیار ہوتی ہے اسی لیے وفاقی حکومت نے جزائر کی ڈیولپمنٹ کے لیے بات کی تو سندھ حکومت نے 4 نکات ان کے سامنے رکھا۔

مرتضیٰ وہاب نے جزائر کے حوالے سے وفاقی حکومت کو پیش کیے سندھ حکومت کے نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلا نکتہ تھا کہ جزائر سندھ حکومت کی ملکیت ہے اور ان جزائر کا استعمال آئین و قانون کے مطابق ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسرا نکتہ کے مطابق جو ڈیولپمنٹ کی جائے گی اس کے شرائط سے ہمیں آگاہ کریں گےجس پر بات ہوگی پھر دیکھا جائے گا۔

تیسرے نکتے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ ڈیولپمنٹ کے دوران وہاں کی مقامی آبادی ماہی گیروں کے مفاد کو مقدم رکھا جائے گا تاکہ لوگوں کے حالات تبدیل ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے 2 ستمبر کو سندھ اور بلوچستان کے حقوق پر شب خون مارا جب انہوں نے کسی سے مشاورت اور کسی کو اعتماد میں لیے بغیر یہ آرڈیننس جاری کیا۔