’خاتون اول کی تصویر سوشل میڈیا پر آنے پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کا کہا گیا‘

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ خاتون اول کی تصویر سوشل میڈیا پر آنے کی وجہ سے انہیں مریم نواز کے سوشل میڈیا سیل کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت ملی تھی۔

معروف صحافی مطیع اللہ جان کو ایک  دیتے ہوئے انہوں نے اس بات کی تائید کی کہ انہیں شہباز شریف،حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت ان کے اہلخانہ اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی گئی تھی لیکن انکار کی وجہ یہ تھی کہ میرے پاس انکوائریز نہیں تھیں اور یہ صوبائی معاملہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لاہور بھیجا گیا جہاں مجھے مواد دیا گیا لیکن میں نے یہی کہا کہ یہ صوبائی اینٹی کرپشن کرسکتی ہے ایف آئی اے نہیں کرسکتی۔

صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم عمران خان آپ سے کیا چاہتے تھے جو آپ پورا نہیں کررہے تھے جس پر بشیر میمن نے جواب دیا کہ ’جو جو نیب نے کیا وہی‘‎

انہوں نے کہا چیئرمین نیب کے درمیان میں آنے سے مجھ پر دباؤ دور ہوگیا وہ میرے محسن ہیں کیوں کہ اب نیب کے مقدمات پر عدالتی فیصلوں کو سن کر میں سوچتا ہوں کہ خدا نے میری عزت بچانی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ’مجھے پاکستان کے سب سے اعلیٰ دفتر میں بلا کر سوشل میڈیا پر خاتون اول کی تصویر جاری ہونے کی وجہ سے مریم نواز کے سوشل میڈیا کے سیل پر دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی گئی لیکن میں نے قانونی نقطہ اٹھایا کہ اس پر کس قانون کے تحت دہشت گردی کا مقدمہ ہوسکتا ہے‘۔

خواجہ آصف کے کیس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بشیر میمن نے بتایا کہ وہ وزیر دفاع تھے اور دبئی کی ایک کمپنی سے تنخواہ حاصل کرنے پر آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا پرچہ کروانے کا کہا گیا جس کی انکوائری کرنے کا حکم کابینہ نے دیا تھا تاہم ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے عمرے پر جانے کے لیے چھٹی لی ہوئی تھی کہ اس سے 2 روز قبل مجھے وزیراعظم کے دفتر میں بلایا گیا جہاں ان کے پرنسپل سیکریٹری موجود تھے جبکہ میں اپنے ساتھ اپنے ایڈیشنل ڈائریکٹر کو لے کر گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں کے الیکٹرک کی بدحالی پر بات ہوئی جس پر میں نے کہا کہ کے الیکٹرک پر سوئی سدرن کے 87 ارب روپے واجب الادا ہیں لیکن کہا گیا کہ ابراج گروپ تباہ ہوگئی ہے اور ایف آئی اے نے ان کے خلاف تحقیقات کر کے بہت غلط کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وزیراعظم کا نام لیے بغیر کہا کہ انہوں نے کے الیکٹرک کا کئی مرتبہ ذکر کیا اور کہا کہ آپ نے اسے تباہ کردیا۔

وزیراعظم کی ناراضی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں سابق ڈی جی ایف آئی اے نے تائید کی کیا کہ مسلم لیگ (ن) بالخصوص شریف خاندان کے خلاف مقدمات نہ درج کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا گیا کہ آپ نے یہ نہیں کیا وہ نہیں کیا لیکن میں نے انہیں جواب دیا کہ اس قسم کے مقدمات کے لیے نیب ہے ان سے کروالیں۔

سابق ڈی جی ایف آئی نے بتایا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے ایک رکن قومی اسمبلی خواجہ سہیل منصور کو منی لانڈرنگ کے حوالےسے ایک نوٹس دیا گیا تھا جس پر انہوں نے ایوان میں خاصی تنقید کی تھی چنانچہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بلا کر کہا کہ آپ نے انہیں نوٹس دیا ہے وہ ہمیں ہاؤس نہیں چلانے دیتے۔

جس پر میں نے انہیں جواب دیا کہ سر نوٹس دینا ہمارا کام ہے ایوان چلانا آج کا کام ہے جس پر وہ ناراض ہونے کے بجائے خاصے خوش ہوئے اور حوصلہ افزائی کی۔

سابق ڈی جی ایف آئی کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے کہا سیاستدانوں کی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہاں سننے کے عادی ہوجاتے ہیں اور آپ جیسے افسروں کو ڈھونڈتے نہیں ہیں لیکن اگر آپ جیسے افسر پاکستان کو مل جائیں تو پاکستان ترقی کرے۔

وزیراعظم سے ہونے والی آخری ملاقات کے بارے میں بشیر میمن نے بتایا کہ وہ خواجہ آصف، مریم نواز، اورمسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے پر خاصے جذباتی ہوگئے لیکن میں نے انہیں یہ کہا کہ میری ملازمت کے 3 ماہ باقی ہیں اور 22 گریڈ سے بڑا گریڈ کوئی نہیں اس لیے معاملات اسی طرح چلیں گے جیسے چل رہے ہیں۔

بشیر میمن نے کہا کہ 16 دسمبر کو مجھے ریٹائر ہونا تھا لیکن 2 دسمبر کو میرا تبادلہ کردیا گیا جو عموماً نہیں ہوتا لیکن اس سے قبل میں 3 سے ساڑھے 3 ماہ میں جبری چھٹی پر تھا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے عمرے پر جانے کے لیے چھٹی لی ہوئی تھی لیکن جب واپس آیا تو جس کی حکومت ہے اس نے مجھے 15 روز کی چھٹی پر بھیج دیا اور اس کے بعد ہر 15ویں روز چھٹی مل جاتی تھی اور میں ایک طرح سے گھر میں ہی بیٹھا ہوا تھا تاہم جب اگلے 15 روز کی چھٹی کی منظوری نہیں آئی تو میں نے اس وقت کے سیکریٹری داخلہ اعظم سلیمان سے پوچھا تو انہوں نے دفتر بلا لیا۔

بشیر میمن کے مطابق جب دوبارہ دفتر آیا تو تیسرے روز میرا تبادلہ کردیا گیا حالانکہ اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ نے میرے تبادلے پر حکم امتناع جاری کیا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود تبادلہ کردیا گیا۔