زیادتی کے بعد قتل ہونے والے 7 سالہ بچے کا والد ملزمان کی سر عام پھانسی کیلئے عدالت پہنچ گیا

لاہور : زیادتی کے بعد قتل ہونے والے سات سالہ بچے کا والد  ملزمان کی سر عام پھانسی کیلئے عدالت پہنچ گیااور استدعا کی  عدالت حکومت کو سر عام پھانسی دینے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے کا حکم دے۔

تفصیلات کے مطابق منڈی بہاوالدین میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والے سات سالہ بچے کے والد نے زیادتی کے ملزمان کی سر عام پھانسی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔

بچے کے والد محمد افضال نے سر عام پھانسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی حکومت اور دیگر کو فریق بنایا ہے، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ دو ماہ قبل میرے سات سالہ بیٹے کو منڈی بہاوالدین میں زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا، ملک میں جنسی زیادتی کے واقعات بڑھتے جا رہے ییں جس کی وجہ سخت سزاٸیں نہ دینا ہے ۔

بچے کے والد کا کہنا ہے کہ دوسروں کی عبرت کے لیے ملزمان کو عوامی مقامات پر سر عام پھانسی دی جانی چاہیئے ۔

درخواست گزار کے مطابق اسلامی اور پاکستانی قوانین کے تحت ریپ اور زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دی جا سکتی ہے، دنیا کے کئی ممالک میں سر عام پھانسی دی جاتی ہے جس سے وہاں کرائم ریٹ کم ہو چکا ہے۔

بچے کے والد نے کہا موٹروے پر بھی افسوس ناک واقعہ پیش آیا، ایسے ملزمان کو سر عام پھانسی دینی چاہیئے، استدعا ہے کہ عدالت حکومت کو سر عام پھانسی دینے کے حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے کا حکم دے۔