شیخ رشید نے نواز شریف سے 10 سوالوں کا جواب مانگ لیا

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے 10 سوالات پوچھتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے بھارت کے ‘اثر و رسوخ کے حامل ایجنٹ’ (انفلیوئنس ایجنٹ) کے طور پر خطاب کیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ کسی شخص نے میری بات پر یہ نہیں کہا کہ میں نے غلط کہا ہے، یہ لوگ کہہ رہے کہ میں نے کسی کے کہنے پر بیان دیا ہے تو میں نے ایسا نہیں کیا ، میں پاک فوج کا جانباز ہوں، میں ان سب لوگوں سے بہت سینئر ہوں، یہ سب مجھ سے جونیئر ہیں یہ مجھے مشورہ نہیں دیتے میں انہیں مشورہ دیتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے یہ 10 سوال اس لیے ہیں کیونکہ آپ نے طوفان کھڑا کردیا ہے، یہ قومی معاملات پر ملاقات کرتے ہیں اور ذاتی ایجنڈوں پر بات کرتے ہیں

شیخ رشید کے 10 سوال

  • انہوں نے نواز شریف سے پوچھا کہ ‘آپ نے اسامہ بن لادن سے کتنی ملاقاتیں کیں اور کتنے پیسے بطور چندہ وصول کیے؟’
  • شیخ رشید نے پوچھا کہ ‘اجمل قصاب کے گھر کا پتہ خبررساں ادارے رائٹرز کو کس نے دیا؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے بھارت کو اجمل قصاب کا ڈیٹا فراہم کیا’۔
  • وفاقی وزیر نے پوچھا کہ ‘دشمن ملک کے سربراہ مودی کو رائیونڈ میں بلاکر کیا باتیں کیں؟’
  • انہوں نے پوچھا کہ ‘دشمن ملک کے سربراہ مودی کو ملک سے باہر فون کیوں کرتے تھے، کیا پاکستان کے اندر آپ کو خطرات تھے کہ آپ کی باتیں ملک کی سلامتی کے خلاف ہوں گی وہ سامنے آجائیں گی، آپ نے جتنی کالز نریندر مودی کو کیں، اس کی تعداد اور ایجنڈا بتائیں’۔
  • شیخ رشید نے پوچھا کہ ‘لاہور سے حملہ آوروں کی بسیں اسلام آباد لے جاکر چیف جسٹس سجاد شاہ کی موجودگی میں سپریم کورٹ پاکستان پر یلغار کس نے کی، کس نے پنجاب ہاؤس میں صبح ناشتہ کروا کر سپریم کورٹ پر حملہ کروایا؟
  • انہوں نے پوچھا کہ ‘بیماری کا بہانہ کرکے آپ ملک سے گئے، ووٹ کی بات کرتے ہیں تو کورٹ کی بات کیوں نہیں کرتے؟ وہ کونسا سیاست دان ہے، اس ملک میں جو کورٹ اسے طلب کرتی ہے اور وہ بیماری کا بہانہ بناتا ہے کہ کورونا وائرس تھا، تاہم جب پاکستان کی سلامتی اور اداروں کے خلاف تقریر کرنی ہو تو ایک ایک گھنٹہ خطاب کرتے ہیں’۔
  • انہوں نے پوچھا کہ ‘ڈان لیکس’ کے پیچھے کون تھا؟ آج اعتراف کرلیا تو پہلے انکار کیوں کیا تھا۔
  • شیخ رشید نے پوچھا کہ ‘2013 کے انتخابات میں کتنا پیسا خرچ کیا اور سیف الرحمٰن کے ذریعے قطر سے آپ کو کتنی رقم وصول ہوئی’
  • انہوں نے پوچھا کہ نیب کی عدالت پر پتھراؤ کی منصوبہ بندی لندن سے کتنے دنوں میں ہوئی اور وہ کیمرے جنہوں نے اس فوٹیج کو کور کیا اسے روکنے کے لیے کتنی کوششیں کیں۔
  • شیخ رشید نے آخری سوال کیا کہ ‘بینظیر کی کردار کشی کے لیے پیٹر گیلبرتھ کے جعلی دستخط سے حسین حقانی کے دریعے خط سے کس نے جاری کیا’۔

انہوں نے کہا کہ میں آج یہ 10 سوار چھوڑ کر جارہا مجھے امید ہے کہ پیر تک ان کے جوابات مل جائیں گے۔

اس موقع پر سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے 36 برسوں میں عسکری قیادت سے کوئی ملاقات نہیں کی، میں اس روز ملاقات میں موجود تھا اور قوم مجھ پر یقین رکھے میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔

انہوں نے کہا کہ جس وقت چیف آف آرمی اسٹاف اور کورکمانڈر کراچی جنرل ہمایوں وہاں موجود تھے میں بھی انہیں 6، 7 لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ نہیں کہا کہ میں وہاں آرہا ہوں یا جارہا ہوں، 36 سال میں قمر باجوہ کی محمد زبیر سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

دوران گفتگو ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی فوج اپنی سویلین حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور 16 ستمبر کی ملاقات میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ جو سویلین حکومت ہوگی ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ اعزاز ہے کہ میں قمر جاوید باجوہ یا ڈی جی آئی ایس آئی سے ملتا ہوں، وہ لوگ جو اندھیروں میں ملتے ہیں وہ بزدل لوگ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں کسی ادارے کا ترجمان نہیں ہوں، میں ان سے سینئر اور تجربہ کار ہوں، میں نے 14 وزارتیں کی ہیں جو دنیا میں کسی شخص نے نہیں کیں اور میرے خلاف دنیا میں کوئی بھی شخص نیب میں درخواست دے سکتا ہے۔

شیخ رشید نے ایک اور سوال کے جواب میں اپوزیشن سے متعلق کا کہ پیپلزپارٹی کسی قیمت پر سندھ سے استعفیٰ نہیں دے گی، مسلم لیگ (ن) کے کئی لوگ استعفی نہیں دیں گے لیکن جو دیں گے وہاں انتخابات کروائیں گے اور میں نے بھی جنوری تک کی تاریخ دی ہے، سب راز سامنے آجائیں گے اور یہ ٹائی ٹائی فش ہوں گے، یہ وہ نہیں جو دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ان کی ‘ملاقاتاں’ کی بات کروں تو ایک مہینے تک ٹی وی پر ہی پھنسا رہوں گا، جبکہ مجھے تو یہ شک پڑ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور (ش) میں سے کہیں ط (طوطا لیگ) ہی نہ نکل آئے کیونکہ یہ سارے لوگ استعفیٰ نہیں دیں گے۔

نواز شریف کی تقریر سے متعلق سوال پر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ الطاف حسین تو معلوم شخص تھا لیکن نواز شریف نے تو بھارت کے ‘اثر و رسوخ کے حامل ایجنٹ’ (انفلیوئنس ایجنٹ) کے طور پر خطاب کیا۔

جہانگیر ترین سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انسان کے اوپر کیس مرتے دم تک ختم نہیں ہوتا جب تک عدالت میں ٹرائل نہیں ہو، جہاں اتنے لوگ بھاگے ہوئے ہیں تو اس میں وہ بھی شامل ہوجائیں گے لیکن کیس سے وہ بچ نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ میری پارٹی (ش) لیگ تو استعفیٰ دینا نہیں چاہتی وہ بہتری کا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) اور (م) کا آپس کا اتحاد ہے اور یہ پتھراؤ کی سیاست کی منصوبہ بندی لندن سے ہوئی۔

مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں نے ان کے بیٹے کو یہ پیغام دیا کہ اپنے والد کو کہوں کہ اس ملک میں شیعہ، سنی اتحاد پیدا کرنا ان کے فرائض میں ہے یہ نہ ہو کہ 8 اکتوبر کو کوئی ایسا فساد ہوا تو یہ لوگ روند دیے جائیں گے اور ساری عمر پچھتائیں گے۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ساری قوم کو تقسیم کیے ہوئے لوگ ہیں، میں پورے پاکستان کو کہتا ہوں کہ ملک کی سالمیت اور فوج کے خلاف بات کرنے والوں کو ڈنڈے مارو۔

چینی اور آٹے سمیت 11 چیزوں کے مہنگے ہونے کو تقسیم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بات عمران خان سے بھی کہی تھی کہ اور میں چینی اور آٹے پر سبسڈی کرواؤں گ