مانسہرہ میں کمسن بچی کا ‘ریپ’، مظاہرین کا ملزم کو پھانسی دینے کا مطالبہ

مانسہرہ: نواحی گاؤں میں ایک خاندان کو ان کے سامان کے ساتھ اس وقت باہر نکال دیا گیا جب ان کے گھر کے ایک فرد نے ایک کمسن بچی کا مبینہ طور پر ریپ کیا۔

پورے خاندان کو ان کے سامان کے ساتھ باہر نکال دیا گیا۔

ادھر امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری گاؤں میں تعینات کردی گئی۔

سٹی پولیس تھانے میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق ملزم، جسے کئی بچوں کا باپ کہا جاتا ہے، وہ متاثرہ بچی کو دھوکے سے قریبی زرعی مقام پر لے گیا جہاں اس نے بچی کا استحصال کیا۔

دوسری جانب ملزم کے بھائی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے اہل خانہ نے ان کے بھائی کو پولیس کے حوالے کردیا۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر میرا بھائی اس طرح کے گھناؤنے جرم میں ملوث ہوا تو ہم کسی پلیٹ فارم پر اس کے پیچھے نہیں ہوں گے، لہٰذا عدالت کو اس کی قسمت کا فیصلہ کرنے دیا جائے’۔

تاہم پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی گئی۔

علاوہ ازیں مختلف اسکولز اور کالجز کے طلبہ کی جانب سے 4 سالہ بچی کے استحصال کے خلاف احتجاج کیا گیا اور ملزم کی سرعام پھانسی کا مطالبہ کیا گیا۔

مشتعل طلبہ کی جانب سے ایبٹ آباد روڈ سے ختم نبوت چوک تک جلوس نکالا گیا، جہاں طلبہ کی قیادت نے خطاب بھی کیا۔

شرکا سے خطاب میں قیادت میں سے ایک کا کہنا تھا خواتین کے ریپ اور بچوں کا استحصال کے کیسز دن بدن بڑھ رہے ہیں، حکومت کو ایسے تمام کیسز میں ‘آہنی ہاتھ’ سے نمٹنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو متاثرہ خاندان کو انصاف کی جلد فراہمی کا یقین دلانا چاہیے اور قصوروار کو سرعام پھانسی دینی چاہیے تاکہ یہ دوسروں کے لیے مثال بنے۔

ایک اور طلبہ لیڈر کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنے معاشرے میں اس طرح کے بھیانک واقعات کی اجازت نہیں دے سکتے جہاں کئی بچوں کا باپ ایک 4 سالہ بچی کا استحصال کرتا ہے’۔

خیال رہے کہ ملک میں حالیہ کچھ دنوں میں بچوں کے جنسی استحصال اور گینگ ریپ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے.

گزشتہ ماہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک 5 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر اسے قتل کردیا گیا تھا جبکہ اس کی لاش کو مسخ کرکے ایک خالی پلاٹ میں چھوڑ دیا گیا تھا.

کمسن بچی کے اغوا، ریپ اور قتل کے بعد اہل علاقہ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ملزمان کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کے لیے سڑک بلاک کرکے احتجاج بھی کیا تھا.

یاد رہے کہ جنوری 2018 میں قصور میں 6 سالہ زینب کو اغوا کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا اور بعدازاں ملزم کو پکڑ کر تختہ دار پر لٹکا دیا گیا تھا۔

گزشتہ سال صوبہ پنجاب کے علاقے جہلم میں با اثر افراد نے 13 سالہ بچی کو اغوا کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا اور تشویشناک حالت میں ویرانے میں چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

2019 میں ہی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو میں اسامہ نامی ملزم نے 5 سالہ بچی کا ریپ کیا تھا جس کے بعد پولیس نے بچی کے دادا کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

رواں سال جولائی میں سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے گاؤں بٹر ڈوگراں چننڈا میں دو افراد کے ہاتھوں گینگ ریپ کا نشانہ بننے والی 8 سالہ بچی دوران علاج ہسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔