وزیراعظم زرعی شعبے کیلئے ایکشن پلان کے خواہاں

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزارت برائے تحفظ خوراک اور صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ زرعی پیداوار، کھپت، ضیاع اور برآمد سے متعلق درست ڈیٹا اکٹھا کیا جائے تا کہ حکومت اجناس کی طلب و رسد کی حقیقی صورتحال جان سکے۔

زرعی شعبے میں اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے وزیراعظم نے زرعی شعبے میں مختصر اور طویل المدتی منصوبوں پر ایکشن پلان بنانے کی ہدایت کی تا کہ پیداوار میں اضافہ اور شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔

اس ضمن میں جاری پریس ریلیز کے مطابق ‘ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ مختلف اجناس کی پیداوار کے تخمینوں کے حوالے سے درست، مستند اور قابل بھروسہ ڈیٹا اکھٹا کیا جائے اور تمام صوبائی حکومتوں اور متعلقہ محکموں کی معاونت سے وزارت تحفظ خوراک میں نیشنل فوڈ سکیورٹی ڈیش بورڈ فعال کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے۔’

زرعی پیداوار میں اضافے اور فوڈ سیکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم نے زرعی اجناس کی پروسیسنگ کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیرِاعظم ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام پر پیش رفت، مختلف اجناس کی پیداوار بڑھانے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِاعظم نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول تحقیقی اداروں، جامعات اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم اور اس حوالے سے مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔

وزیرِاعظم نے چین کے تجربے سے استفادہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین کی مہارت اور تعاون کا بھرپور استعمال یقینی بنایا جائے اور حکام کو ایگرو ایکولوجیکل زونز کو ازسرنو مرتب کرنے کی ہدایت کی۔

پاکستان سٹیزن پورٹل
ایک علیحدہ اجلاس میں وزیراعظم نے اپنے آفس ڈلیوری یونٹ (پی ایم ڈی یو) کو وفاقی حکومت کے تمام شعبوں کے شکایتی سیلز کو پاکستان سیٹزن پورٹل سے منسلک کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے پی ایم ڈی یو کو مذکورہ عمل 60 روز میں مکمل کرنے کی ہدایت کی تا کہ متعلقہ اداروں سے مشاورت کا طریقہ کار اور انہیں منسلک کرنے کا منصوبہ تیار کیا جائے۔

اس وقت وفاقی حکومت کے اداروں کے تحت مینوئل اور معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر متعدد شکایتی سیلز کام کررہے ہیں۔

پاکستان سٹیزن پورٹل ملک کا سب سے متحرک شکایتوں کے حل کا نظام کا جو اکتوبر 2018 سے پی ایم ڈی یو کے تحت کام کررہا ہے۔

گزشتہ 2 سال کے عرصے میں 2 کروڑ 80 لاکھ افراد کی جانب سے ہر ماہ ایک لاکھ 15 ہزار شکایتیں موصول ہوتی ہیں اور اب تک 23 لاکھ شکایتیں درج کروائی جاچکی ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ عوامی شکایات کا ایک بڑا حصہ یعنی 22 لاکھ شکایات حل کی جاچکی ہی جن میں مکمل مطمئن ہونے کی شرح 40 فیصد ہے۔