عمران خان نے وزراء کو بے جا بیانات دینے سے رو ک کر بہت احسن اقدام اٹھایا ہے،ایس کے نیازی

سرمایہ کارعمران خان پر اعتماد کرتے ہیں ،دولت کہاں سے آئی کدھر سے آئی وہ علیحدہ کہانی ہے ، سرمایہ آ نا بڑی کامیابی ہے

دنیا حیران پریشان ہے کہ ایک فٹ زمین چھ لاکھ کی کیسے فروخت ہوئی، یہ تمام کریڈیٹ عمران خان کو جاتا ہے ، حکومت کو ڈیلور کرنا چاہئے

جو زمین نیلام ہوئی وہاں سہولیات فراہم کی جائیں ، کچھ جگہوں پر جو نیلام ہوئیں وہاں پر سہولیات ہی موجود نہیں

اگر ایف بی آر سے عوام کو مزید سہولت ہو تو کوئی باہر سرمایہ کاری نہیں کرے گا، ادارے کرپٹ نہ ہوں تو کرپشن نہیں ہو سکتی

18ویں ترمیم کو ختم نیں ہونا چاہئے ، جن کلازز کی وجہ سے مسائل جنم لے رہے ہیں قومی اسمبلی میں اس پر بحث ہونی چاہئے

کیا عمران خان کی حمایت کیلئے اے پی سی بلائی تھی، نواز شریف نے ٹوٹل نشانہ اسٹیبلشمنٹ کو بنایا تھا، الیکشن اصلاحات پہلے ہونی چاہئےں

عوامی سوچ یہ ہے کہ عوام نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ ہے ، اے پی سی میں مریم نواز کوبٹھانا مجبوری بن گئی

ہماری عدلیہ اور وکلاء سے درخواست ہے کہ فیصلے جلدی ہونا چاہئے ،سانحہ بلدیہ کا فیصلہ 10سال بعد ہوا ، کئی لوگ انتظار میں مر گئے

اسلام آبا د(روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے کہا کہ نواز شریف نے بیرون ملک سے واپس نہیں آنا ، اے پی سی کے بعد حالات مختلف ہو گئے ، حکومت کیلئے چیلنج ہے کہ گراءونڈ پر کچھ کر کے دکھائے ، احتساب بھی کرے ، مگر ہر کسی کو تنگ نہ کرے ، عمران خان نے وزراء کو جو بے جا بیانات سے روکا ہے ، بہت خوش آئند ہے ، سچ کو آنچ نہیں ، کام کر کے دکھائیں ، اگر عمران خان ایک فٹ کی زمین کو چھ لاکھ کی بیچی ہے وہ بڑی کامیابی ہے ، سرمایہ کارعمران خان پر اعتماد کرتے ہیں ، دولت کہاں سے آئی کدھر سے آئی وہ علیحدہ سٹوری ہے ، سرمایہ کار دولت کا ملک میں آنا عمران خان کی کامیابی ہے ، روزنیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن علاقوں کی نیلامی ہو گئی وہاں ڈویلپمنٹ ہونا چاہئے، دنیا حیران پریشان ہے کہ ایک فٹ زمین چھ لاکھ کی کیسے فروخت ہوئی، یہ تمام کریڈیٹ عمران خان کو جاتا ہے ، اگر ایف بی آر سے عوام کو سہولت ہو تو کوئی باہر سرمایہ کاری نہیں کرے گا، ادارے کرپٹ نہ ہوں تو کرپشن نہیں ہو سکتی ،انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کو ختم نیں ہونا چاہئے ، جن کلازز کی وجہ سے مسائل جنم لے رہے ہیں قومی اسمبلی میں اس پر بحث ہونی چاہئے ، مخالفت برائے مخالفت نہیں ہونا چاہئے ، حکومت کو ڈیلور کرنا چاہئے ، ادارے عمران خان کے ساتھ ہیں ، الیکشن اصلاحات پہلے ہونی چاہئےں تھیں ، تاہم اب بھی یہ اصلاحات ہونی چاہئیں ، 18ویں ترمیم کے حوالے سے میں تو سپریم کورٹ میں ان پرسن پیش ہوتا رہا ، اب خصوصی طور پر کرونا میں 18ویں ترمیم کی کلازز رکاوٹ بنی ہیں ِ اس حوالے سے پارلیمانی کمیٹٰ بنے اور اس پر بحث ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ کیا عمران خان کی حمایت کیلئے اے پی سی بلائی تھی، نواز شریف نے ٹوٹل نشانہ اسٹیبلشمنٹ کو بنایا تھا، عوامی سوچ یہ ہے کہ عوام نواز شریف اور مریم نواز کے ساتھ ہے ، اے پی سی میں مریم نواز کا بیٹھنا اسکی مجبوری بن گئی ، انہوں نے کہا کہ ہماری عدلیہ اور وکلاء سے درخواست ہے کہ فیصلے جلدی ہونا چاہئے ، سانحہ بلدیہ میں جو شامل ہیں ، وہ درندے ہیں ، لمحہ فکریہ ہے کہ کراچی میں ایسا کیوں ہوتا ہے ، ان مجرمان کو سزا ہونا اچھی بات ہے ، انصاف وقت پر ملے ، ظہر کی نماز ظہر کے وقت ہوتی ہے ، سانحہ بلدیہ کا فیصلہ 10سال بعد ہوا ، کئی لوگ انتظار میں مر گئے، یہاں میاں عتیق اور مشاہد اللہ کی لڑائی ٹاک آف ٹاءون بن گئی ، پارٹی کے سربراہوں کو درندہ صفت لوگوں پر نظر رکھیں ، اور ان کو پارٹی میں نہ رکھیں ، انہوں نے کہا کہ جو زمین چھ لاکھ فٹ فروخت ہوئی لدندن میں بھی یہ ریٹ نہیں ہو گا، حکومت اس سے بھی مثبت انداز میں آگے جا سکتی ہے ، جو زمین نیلام ہوئی وہاں سہولیات فراہم کی جائیں ، کچھ جگہوں پر جو نیلام ہوئیں وہاں پر سہولیات ہی موجود نہیں ہیں ،