عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے نظام درست کرنا ہوگا، قانون پر عملدرآمد ضروری ہے،شعیب سڈل
جن مقدمات میں ثبوت ہوں ان کو پراسیکیوشن جانا چاہئے ، جیل میں انہیں رکھا جاتا ہے جو معاشرے کیلئے خطرناک ہوں، باقی ضمانت پر رہتے ہیں

ضروری بات یہ ہے کہ کیس کو چار چھ ماہ میں ختم کرنا چاہئے، عمران خان کو بہت چیلنجز کا سامنا ہے ، ٹیم ایسی ہونی چاہئے جو وزیر اعظم کو ایڈوائس درست دے

گر قانون پر عملدرآمد نہیںہو گا تو قانون جتنے مرضی بنالیں ان کا کوئی فائدہ نہیں،سیاست چلتی رہتی ہے ، فیصلے نہیںہوتے،روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو

اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)آئی بی کے سابق سربراہ شعیب سڈل نے کہا کہ معاملات کو سلجھانے کی بہت کوشش کی جو بگڑی چیزیں ہیں، انہیں ٹھیک کرنے کیلئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے ، اب بھی یہ مسئلہ ہے کہ ہماری اول آخر کی پوزیشن بہت کمزور ہے ، جو لوگ قانون سے بالا تر ہیں وہ بالاتر ہی رہتے ہیں، قانون غریب کیلئے رہ جاتا ہے ، ہماری کوشش ہونا چاہئے کہ قانون سب کیلئے ہو، سب برابر ہوں، ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا پراسیکیوشن ہماری صحیح نہیں ہے ، ضروری بات یہ ہے کہ کیس کو چار چھ ماہ میں ختم کرنا چاہئے ، جن مقدمات میں ثبوت ہوں ان کو پراسیکیوشن جانا چاہئے ، جیل میں انہیں رکھا جاتا ہے جو معاشرے کیلئے خطرناک ہوں، باقی ضمانت پر رہتے ہیں، عوام کی بڑی امیدیں تھیں اور ہیں یہ کہ عمران خان ریلیف دیں گے ، روز نیوز کے پروگرام ” سچی بات ” میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ثبوت ہوں تو پراسیکیوشن میں دالنے چاہئے ، ثبوتوں پر توجہ دینا چاہئے ، میں سمجھتا ہوں کہ پراسیکیوٹر اور ججز کی تربیت بھی ضروری ہے ، عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے نظام درست کرنا ہوگا، عمران خان کو بہت چیلنجز کا سامنا ہے ، ٹیم ایسی ہونی چاہئے جو وزیر اعظم کو ایڈوائس درست دے ، تیسرے سال میں 4ایشوز سامنے رکھیں ار عمران خان اسے حل کریں ، جسٹس کے نظام کو درست کرنے کا عزم اٹھائیں اور اسے درست کریں، ہمارا یہ المیہ ہے کہ جو سیاسی پارٹیاں ہیں وہ اس پر نہیں آئی کہ متحد ہو کر بیٹھیں ، قانون سازی کریں، اگر قانون پر عملدرآمد نہیںہو گا تو قانون جتنے مرضی بنالیں ان کا کوئی فائدہ نہیں، انہوں نے کہا کہ سیاست چلتی رہتی ہے ، فیصلے نہیںہوتے ، ضروری ہے کہ ان کیسز کو لیں جن کے ثبوت آپ کے پاس ہیں اور ان کے فیصلے جلدی ہو سکتے ہیں، کچھ کیسز سول سائیڈ پر ڈال دیں اس کے نتائج بھی اچھے نکلیں گے ۔