ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا، شیخ رشید

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے تمام اراکین کو محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی ہدایت کی ہے جبکہ ان کے انتقال پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ سمیت بحریہ اور فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے۔

شیخ رشید نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی صاحبزادی سے فون پر تفیصلی بات ہوئی ہے اور مرحوم اور ان کے لواحقین کی جانب سے 2 بجے فیصلے کے بعد تدفین کا تعین ہوگا جبکہ فیصل مسجد میں ساڑھے 3 بجے نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

انہوں نے سیکیورٹی انتظامات سے متعلق کہا کہ کمشنر اسلام آباد، پولیس، رینجرز اور ایف سی کو سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے اور بروقت انتظام پورے کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

وفاقی وزیر نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی تدفین کے انتظامات کے بارے میں بتایا کہ فیصل مسجد کے احاطے اور ایچ 8 میں سے کسی ایک جگہ تدفین ہوگی کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی بیٹی نے اپنی والدہ سے بات کرکے بتایا کہ انہوں نے ایچ 8 میں اتنظامات کیے ہیں۔

شیخ رشید نے بتایا کہ جو ان کی فیملی فیصلہ کرے گی اس کا احترام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم ڈاکٹر عبدالقدیر کے وفات پر غمزدہ ہے اور پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نماز جنازہ میں عوام کو شرکت کی اجازت ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نماز جنازہ میں شرکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن اگر ہوتی بھی تو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نہیں بتا سکتا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے نامور سائنسدان اور ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل علالت کے باعث 85 برس کی عمر میں 10 اکتوبر (آج) انتقال کر گئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق آج صبح طبیعت بگڑنے پر انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

خاندانی ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال کی وجہ ان کے پھیپھڑوں کا عارضہ بنا، کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے ان کے پھیپھڑے کافی حد تک ختم ہوچکے تھے۔