متاثرین کو تمام قانونی ، طبی ، نفسیاتی امداد چاہئے ،، اصل مسئلہ سے توجہ ہٹا نے کیلئے جان بوجھ کر ہماری توجہ سی سی پی او کی طرف دلائی جارہی ہے ۔۔۔۔کیچ لائن

قرآن شریف مکمل ضابطہ حیات ہے اس کے احکامات پر عمل کرنا چاہیئے تب ہی مسائل حل ہو نگ،ایس کے نیازی۔۔۔کورل حکومت صرف سیاست چمکا رہی ہے،جب تک اس وزیر اعلیٰ سے جان نہیں چھوٹے گی حالات درست نہیں ہونگے،مسنگ پرسن کے حوالے سے میں نے بہت مشکلات برداشت کیں
ان واقعات کے حوالے سے قانون موجود ہے ، مگر اس پر عملدآمد نہیں ہو رہا ، کمی سیاسی عزم کی ہے ، عمل نہیں ہو رہا ، قانون نافذ نہیں کیا جا رہا ہے،پنجاب میں پولیس کلچر کا بیڑا غرق ہو چکا ہے ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئیں ، اسکے لئے قانون کی رٹ قائم ہونی چاہیے ، بزدار کا حکومت پر کنٹرول نہیں، پنجاب کا کوئی ڈسپلن نہیں،حکومت خود مسائل کو مس ہنڈل کر تی ہے
جو مزید کیسز سامنے آرہے ہیں ریاست، معاشرہ ان پر توجہ دیں، ان کو انصاف فراہم کیا جائے، ملزم سوشل میڈیا کی وجہ سے پکڑا گیا ہے،آج شریف مرد بھی محفوظ نہیں وہ بھی خوفزدہ ہے
عمران خان کو زمینی حقائق کا علم ہی نہیں، تعلیم اور عمل ہونا دو مختلف چیزیں ہیں، کے پی کے پولیس پہلے ہی اچھی تھی، عمران خان نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا،بر بات کو پر موٹ نہیں کرنا چاہئیےایسا طریقہ کار اپنایا جائے کہ ایسا واقع ہی درپیش نہیں آنا چاہیے، پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے روزنیوز کے پروگرام ” سچی بات ” میں گفتگو
اسلام آباد، (روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے کہاہے کہ سی پی او کو اسی وقت استعفیٰ دینا چاہیے تھا، حکومت خود مسائل کو مس ہنڈل کر تی ہے ، عمران خان کو زمینی حقائق کا علم ہی نہیں، تعلیم اور عمل ہونا دو مختلف چیزیں ہیں، کے پی کے پولیس پہلے ہی اچھی تھی، عمران خان نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا، پنجاب میں پولیس کلچر کا بیڑا غرق ہو چکا ہے ، جب تک اس وزیر اعلیٰ سے جان نہیں چھوٹے گی حالات درست نہیں ہونگے ، عمران خان بری بات کرنے والے کو پرموٹ کرتے ہیں، ایسا طریقہ کار اپنایا جائے کہ ایسا واقع ہی درپیش نہیں آنا چاہیے ، روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات اپنانے چا ہیئے کہ شریف مرد بھی محفوظ رہے ، مردوں کی بھی عزت کرنا ہو گی، مسنگ پرسن کے حوالے سے میں نے بہت مشکلات برداشت کیں، عاصمہ جہانگیر اور آپ نے میرے حوالے سے بات کی ، آمنہ مسعود آپ سے عوام کو بڑی امیدیں ہیں کہ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے آپ مزید کام کریں ، میرا کسی مسلک اور فرقے سے تعلق نہیں، قرآن شریف مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس کے احکامات پر عمل کرنا چاہئے ، ان واقعات کے حوالے سے قانون موجود ہے ، مگر اس پر عملدآمد نہیں ہو رہا ، کمی سیاسی عزم کی ہے ، عمل نہیں ہو رہا ، قانون نافذ نہیں کیا جا رہا ہے ،ان خیالات کا اظہار پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے روزنیوز کے پروگرام ” سچی بات ” میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمارا فوکس ہماری توجہ ہماری کوششیں اس طرف مبذول کراتے ہیں کہ جو مزید کیسز سامنے آرہے ہیں ریاست، معاشرہ ان پر توجہ دیں، ان کو انصاف فراہم کیا جائے، ان تمام قانونی ، طبی ، نفسیاتی امداد چاہئے ، مگر حکومت صرف سیاست چمکا رہی ہے ، جان بوجھ کر ہماری توجہ سی سی پی او کی طرف دلوائی جارہی ہے ، کہ اصل مسئلہ سے توجہ ہٹ جائے ، سی سی پی او پہلے اچھا افسر نہیں ہے ، اکثر لوگ ایسے واقعات کو چھپاتے ہیںکہ وہ تماشا نہ بنیں ،موٹرے ریپ پر سوشل میڈیا اور چینلز مسلسل منفی کوریج پر لگے ہیں، جس سے ملک کی بدنامی ہو رہی ہے ، اور آزادی اظہار رائے کے نام پر ملک کو بدنام کیا جا رہا ہے ، ملزم سوشل میڈیا کی وجہ سے پکڑا گیا ہے یا اداروں کی کارکردگی ہے ، قانون سازی ایسے واقعات پر ہونی چاہیے ، مگر کسی کی بھی کردار کشی نہیں ہو نی ہیں ہونی چاہیے ، ہمیں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئیں ، اسکے لئے قانون کی رٹ قائم ہونی چاہیے ، بزدار کا حکومت پر کنٹرول نہیں، پنجاب کا کوئی ڈسپلن نہیں ۔