لڑکے لڑکی پر تشدد کا کیس: ‘ملزمان کے وحشت ناک عمل کا اثر براہ راست معاشرے پر ہے’

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لڑکے اور لڑکی پر تشدد اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی حرکتیں کرنے کے الزام میں گرفتار عثمان مرزا سمیت 3 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ اسلام آباد میں لڑکے اور لڑکی پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے والے تینوں ملزمان ضمانت کے حقدار نہیں ہیں، ایسے وحشت ناک عمل پر جس کا ڈر اور اثر براہ راست معاشرے پر ہو، عدالت ضمانت نہیں دے سکتی۔

عدالت نے کہا کہ نہ ایف آئی آر دیر سے ہونے کا فائدہ ملزمان کو مل سکتا ہے اور نہ یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، جرم کے ویڈیو کلپس موجود ہیں، ویڈیو وائرل ہوئی جس پر ملزمان کی گرفتاری ہوئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے کہا کہ عمر بلال مروت کو طالبعلم ہونے کی وجہ سے ضمانت ملی، وہ فلیٹ سے باہر تھا اور اس کیس میں اس کا کردار مختلف ہے۔

ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کو کیس کی روزانہ سماعت کرکے 2 ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت کی بھی ہے۔