سمندری طوفان ’گلاب‘ نہیں ’گل آب‘ تھا، لیکن یہ نام آیا کہاں سے؟

گذشتہ دنوں شمال خلیج بنگال میں تشکیل پانے والا ٹراپیکل سمندری طوفان گلاب نہیں دراصل’ گل آب ‘ تھا جسے طوفان کے آنے سے قبل اور اب تک گلاب ہی لکھا اور پڑھا جاتا رہا ہے۔ سمندری طوفان گل آب کا نام پاکستان کا تجویز کردہ ہے جسے 2019 میں پاکستان کی جانب سے عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی ذیلی کمیٹی PTC کو پیش کی جانے والی سمندری طوفانوں کے ناموں کی فہرست میں پیش کیا گیا تھا۔

پاکستان نے سمندری طوفان کے لیے’ گل آب ‘ کا نام کیوں منتخب کیا؟ حالیہ سمندری طوفان گل آب کے نام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفراز نے بتایا کہ حال ہی میں بھارت کے ساحل سے ٹکرانے والا طوفان گلاب نہیں بلکہ ’گل آب‘ تھا جس کے معنی ’پانی کا پھول‘ کے ہیں۔

ڈائریکٹر سردار سرفراز کے مطابق پی ٹی سی پینل میں موجود ممالک کو ناموں کی تجویز کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں جس کے تحت کوئی بھی ملک سمندری طوفان کا نام سیاسی، ذاتی، مذہبی وابستگی اور مقدس مقامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے نہیں تجویز کرسکتا۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سردار سرفراز نے مزید بتایا کہ سمندری طوفانوں کے ناموں کے حوالے سے جاری ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ملک سمندر ی طوفان کا نام صحرا کو مد نظر رکھتے ہوئے تجویز نہیں کرسکتا اس کے برعکس طوفان کا نام کا پانی سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ سردار سرفراز کے مطابق ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے گل آب نام تجویز کیا جس کے معنی پانی کا پھول کے ہیں، اس سے قبل بھی پاکستان کی جانب سے نیلوفر نام تجویز کیا گیا تھا نیلوفر بھی ایک ایسا ہی پھول ہو جو پانی میں کھلتا ہے۔

سمندری طوفان گل آب ختم ہوچکا اب جو طوفان ہے وہ شاہین ہے: ڈائریکٹر محکمہ موسمیات. سردار سرفراز نے گفتگو کے دوران کہا کہ میں اس حوالے سے مختلف میڈیا چینلز کو یہ باور کرواچکا ہوں کہ سمندری طوفان گل آب بھارتی ساحل سے ٹکرانے کے بعد ختم ہوچکا اب طوفان کا باقی ماندہ کم دباؤ بھارت سے ہوتا ہوا شمال مشرقی بحیرہ عرب میں سمندری طوفان میں تبدیل ہوا تو اسکو نیا نام شاہین دیا گیا، سمندری طوفان شاہین کا نام قطر کی جانب سے تجویز کردہ ہے۔

سمندری ناموں کی تجویز کیلئے 13 ممالک پر مشتمل پینل
سمندری طوفانوں کے ناموں کی تجویز کے حوالے سے 13 جنوبی ایشائی ممالک پر مشتمل ایک پینل (PTC) ہے۔ اس پینل میں پہلے8ممالک موجود تھے تاہم اب اس پینل میں پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، میانمار، تھائی لینڈ، مالدیپ، سری لنکا، عمان، ایران، سعودی عرب، قطر ، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

یہ وہی 13 ممالک ہیں جن کی جانب سے 2019 میں مشاورت کے بعد عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO)کی ذیلی کمیٹی PTC کو نام پیش کیے گئے اب تک 169 سمندری طوفانوں کے ناموں کی فہرست تجویز کی گئی۔ اس فہرست کے لیے ہر ملک کی جانب سے 13 نام تجویز کیے گئے ہیں جن میں سے یکے بعد دیگرے ہر آنے والے طوفان کا نام منتخب کیا جاتا ہے۔ فہرست ورلڈ میٹیرولوجیکل آرگنائزیشن کی جانب سے منظور شدہ ہے۔

گل آب اب شاہین میں تبدیل ہوچکا :سردار سرفراز
سردار سرفراز نے مزید بتایا کہ سمندری طوفان کے کسی ساحل سے ٹکرانے کے بعد کسی بھی ملک کا تجویز کردہ نام بھی ختم ہوجاتا ہے جسے بعد میں کسی دوسرے آنےوالے طوفان کے لیے استعمال نہیں کیاجاتا یہی وجہ ہے کہ طوفان گل آب ختم ہوچکا ہے اور اب بحیرہ عرب میں جو طوفان موجود ہے وہ شاہین ہے۔