پیٹرول کی قیمت اب بھی کم ہے، عوام کو مچھلی دیں گے نہیں پکڑنا سکھائیں گے، وزیرخزانہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس بڑا جامع منصوبہ لیکر جا رہے ہیں۔

معاون خصوصی فرخ حبیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا اس وقت پیٹرولیم لیوی دو ڈھائی روپے ہے، ہم نے پیٹرولیم لیوی کے لیے 600 ارب روپے رکھے ہیں لیکن ہم نے نہیں لگائی ہے کیونکہ وزیراعظم نے لیوی لگانے سے منع کیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا خطےمیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پاکستان 17 ویں نمبر پر ہے، دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیتمیں اب بھی کم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کورونا نے ہمیں متاثر کیا ہے، ہم زرعی ملک ہونے کے باوجود فوڈ امپورٹر بن گئے ہیں، ہم گھی، چینی اور دالیں درآمد کر رہے ہیں، زراعت بڑھانے کے اقدامات کر رہے ہیں۔

شوکت ترین کا کہنا تھا عمران خان عوام پر بوجھ میں کمی لانا چاہتے ہیں، ہم لوگوں کو مچھلی نہیں دیں گے، مچھلی پکڑنا سکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ غریب طبقے کو براہ راست سبسڈی دیں گے، ساڑھے 12 ملین گھرانوں کو براہ راست فوڈ سبسڈی دی جائے گی، ملک کی 40 فیصد آبادی اس سبسڈی سے فائدہ اٹھا سکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ مڈل مین بہت زیادہ منافع کماتا ہے جسے کنٹرول کرنے کے لیے پرائس مجسٹریٹ کے عہدے کو دوبارہ سے بحال کیا جا رہا ہے، منہگائی کم کرنے کے لیے انتظامی ایکشن لیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے ہدف سے زیادہ محاصل اکٹھے کیے ہیں، معیشت ترقی کرے گی تو اس کے اثرات عوام کو نظر آئیں گے، کامیاب پاکستان پروگرام لانچ کرنے لگے ہیں، چھوٹے کسانوں کو ہر فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے بلاسود قرض دیا جائے گا جبکہ کاروبار کے لیے 5 لاکھ روپے بلاسود قرض دیا جائے گا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس بڑا جامع منصوبہ لے کر جا رہے ہیں، امید ہے آئی ایم ایف میں ہماری بات سنی جائے گی، آئی ایم ایف کے ساتھ ریوینیو ہدف اور پاور سیکٹر پر بات ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک ریوینیو میں 38 سے 40 فیصد نمو ہے، پاور سیکٹرکے چیلنجز ہیں اور بجلی کا ٹیرف بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ڈالر کی قدر میں اضافے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ روپے کی قیمت میں کمی سے قرضوں میں اضافہ ہوا ہے، پچھلے سال قرض کی جی ڈی پی شرح 4 سے 5 فیصد کم ہوئی ہے۔