بحیرہ عرب میں سمندری طوفان بننے لگا، سندھ اور مکران کے ساحلی علاقے متاثر ہونگے

شمال مشرقی بحیرہ عرب میں ٹراپیکل سمندری طوفان تشکیل پا رہا ہے جس کے نتیجے میں سندھ اور مکران کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ طوفانی بارشوں کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کیا ہے کہ ہوا کا کم دباؤ ڈپریشن کی صورت میں مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ہے، کراچی سے یہ ڈپریشن 340 کلو میٹر دور مشرق اور جنوب مشرق میں موجود ہے، آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈپریشن شدت اختیار کرکے سمندری طوفان بن سکتا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بننے والے طوفان کا رخ شمال مغرب کی جانب رہے گا، کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین میں آج دوپہر یا شام سے 2 اکتوبر کے دوران بارشوں کا امکان ہے۔ شہرِ قائد میں طوفانی بارش کا قوی امکان شہرِ قائد میں طوفانی بارش کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے اور آج سے دو اکتوبر تک بادل جم کر برسیں گے۔ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردارسرفراز کا بتانا تھا کہ ہوا کا کم دباؤ تقریباً ڈپریشن کی اسٹیج میں ہے جس کے باعث کراچی میں آج شام سے بارش کا امکان ہے، کل سارادن کراچی میں بارش جاری رہنے کا امکان ہے۔

سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ ہوا کا کم دباؤ سائیکلونک طوفان کی شکل اختیارکرسکتا ہے، کراچی میں آج رات سے تیز بارش کا امکان ہے، ہواکے کم دباؤ کے زیر اثر سندھ بھرمیں بارشوں کا امکان ہے، تیز بارش کی وجہ سے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں سڑکیں اور گلیاں زیر آب آنے کا خطرہ ہے، شہر میں گزشتہ رات گرم ہوائیں چلتی رہیں جو بحیرہ عرب میں موجود سائیکلون کا اثر ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بارشوں سے نمٹنے کی تیاریوں کے دعوے کیے جارہے ہیں۔

ٹھٹہ، بدین، دادو، ڈگری ،عمرکوٹ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بھی گزشتہ رات گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جس سے فصلوں کو نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے بارشوں کے باعث بدین، ٹھٹہ، حیدرآباد اور دادو میں بھی اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔ کمزور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

علاوہ ازیں لسبیلہ، سونمیانی، اورماڑا، پسنی، گوادر، تربت، جیوانی میں بھی طوفانی بارش اور اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سمندر میں طغیانی کا خدشہ ہے اس لیے ماہی گیروں کو آج سے 3 اکتوبر کے دوران سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔