کے پی کے زلزلہ زدہ علاقوں میں اسکولوں کی عدم تعمیر پر چیف جسٹس برہم

چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس گلزار احمد نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کو کچھ ڈیلیور نہیں ہوسکتا۔

کے پی کے زلزلہ زدہ علاقوں میں اسکولوں کی عدم تعمیر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں خیبر پختو نخوا میں زیادہ کرپشن ہونے کی نشاندہی کی۔ انھوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اتنی زیادہ ہے کہ عوام کوکچھ ڈیلیور نہیں ہوسکتا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایرا نے بتایا کہ انہیں 592 ارب روپے ملے، اس رقم سے کیا تعمیرکیا؟سارے اسکول ٹوٹے ہوئے ہیں، آپ بس کاغذات دکھا رہے ہیں جو نظر کا دھوکا ہیں۔ عدالت کے ریمارکس پر ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے 2 ماہ میں 148 اسکول تعمیر کرکے فعال کردیے۔

اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسکول اب بن رہے ہیں، 16 سال میں کتنے بچے اسکول نہ ہونے کی وجہ سے بھاگ گئے ہوں گے، جیسی عمارتیں بن رہی ہیں 6 ماہ میں گرجائیں گی۔ عدالت نےایرا کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے کر مسترد کردی اور ایرا کو زلزلے کے بعد تعمیرکیے گئے گاؤں کی تصاویر کے ساتھ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی۔

دوسری جانب دوران سماعت جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ دہشت گرد ٹھیکیداروں سے بھتہ مانگ رہے ہیں اور دھمکیاں بھی دے رہے ہیں،کئی ٹھیکیدار بنوں اور ڈی آئی خان میں کام چھوڑ کر بھاگ گئے۔ جس پر چیف سیکرٹری خیبرپختو نخوا نے ٹھیکداروں سے بھتہ مانگنے کے واقعات سے اظہار لاعلمی کیا اور کہا کہ عدالت کی نشاندہی پر متعلقہ حکام سے رپورٹ لیں گے۔