عمر شریف کو لے جانے والی ائیرایمبولینس میں فنی خرابی، امریکا روانگی میں تاخیر

معروف اداکار عمر شریف کی جرمنی سے امریکا روانگی میں مزید تاخیر ہوگئی ہے اور پاکستان سے امریکا لے جانے والی ائیر ایمبولینس میں فنی خرابی سامنے آئی ہے۔

ائیرایمبولینس کے طورپر زیر استعمال طیارہ نائٹ لینڈنگ اور ٹیک آف نہیں کر سکتا لہٰذا آگے کے سفر کیلئے جرمنی کے شہر نیورمبرگ میں ائیر یمبولینس طیارہ تبدیل کیا جا رہا ہے۔ عمر شریف کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر شریف کی طبیعت بہتر ہے اور وہ نیورمبرگ کے مقامی اسپتال میں داخل ہیں۔

ائیر ایمبولینس کمپنی ذرائع کے مطابق اس فلائٹ کے لیے آپریٹ کیا جانے والا بمبارڈیئر چیلنجر 604 طیارہ جرمنی میں رجسٹرڈ ہے جو پرواز کیلئے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ذرائع کے مطابق طیارے کی مین لائٹ میں پہلے سے ٹیکنیکل فالٹ ہے جس کی بنیاد پر طیارے میں نائٹ لینڈنگ اور ٹیک آف کی سہولت عارضی طور پر دستیاب نہیں۔

یہ طیارہ اپنے ہوم کنٹری جرمنی میں ہے اسی بنا پر اس ٹیکنیکل خرابی کو دور کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق خرابی دور ہونے پر یہی طیارہ آگے سفر جاری رکھے گا یا پھر عمر شریف کو امریکا پہنچانے کیلئے کمپنی دوسرا طیارہ فراہم کرے گی۔ اسی وجہ سے عمر شریف کے سفر میں تعطل آیا ہے۔

کمپنی کی میڈیکل ٹیم کے مطابق عمر شریف جرمنی کے نیورمبرگ شہر کے مقامی اسپتال میں داخل ہیں جہاں ان کی صحت اچھی ہے۔ عمر شریف کا بخار ختم ہو چکا ہے اور تھکاوٹ بھی دور ہوگئی ہے جبکہ بلڈ پریشر بھی نارمل ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق وہ آگے کے سفر کے لیے مکمل طور پر فٹ ہیں۔ توقع ہے کہ عمر شریف جرمنی میں 24 گھنٹے قیام کے بعد آج شام تک نیورمبرگ ائیرپورٹ سے اپنی اگلی منزل آئس لینڈ کیلئے روانہ ہوجائیں گے۔

لگ بھگ 7 گھنٹے کے سفر کے بعد ائیر ایمبولینس آئس لینڈ کے کیفلاوک ائیر پورٹ پر رکے گی۔ طیارے کی ری فیولنگ ہوگی اور ممکنہ طور پر مریض کو ریسٹ کرایا جائے گا۔ ائیر ایمبولینس کمپنی ذرائع کے مطابق کیفلاوک سے آن کال انٹرنیشنل کمپنی کے ہیڈ کوارٹر کینیڈا کیلئے روانگی کا فیصلہ عمر شریف کی صحت دیکھ کر کیا جائے گا۔

کینیڈا کے گوس بے ائیرپورٹ پر بھی طیارے کا 2 گھنٹے کا اسٹاپ اوور شیڈول ہے۔ اگلے اور آخری مرحلے میں پرواز حتمی منزل واشنگٹن ائیر پورٹ پر لینڈ کرے گی۔ ایئر ایمبولینس سے عمرشریف کو امریکا کے جارج واشنگٹن یونیورسٹی اسپتال منتقل کیا جائےگا۔

گزشتہ روز عمر شریف کو کراچی سے امریکا کیلئے ائیر ایمبولینس کے ذریعے روانہ کیا گیا تھا تاہم تھکاوٹ اور طویل سفر کے باعث انہیں جرمنی میں مزید طبی معائنے اور ریسٹ کے لیے اسپتال میں داخل کر دیا گیا تھا۔