نور قتل کیس: ’اعانت بھی قتل جیسا سنگین جرم ہے‘، ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواستیں مسترد ہو گئیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ظاہر جعفر کے والد ذاکر جعفر اور والدہ عصمت آدم جی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ظاہر جعفر کے والدین کی درخواستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ بادی النظرمیں ظاہرجعفرکے والدین اعانت جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، والدین جانتے تھے کہ ظاہرجعفر نے لڑکی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ معلومات ہونے کے باوجود والدین نے پولیس کو اطلاع نہیں دی، چوکیدار واضح کہہ چکا جی اس نے ذاکرجعفر کو اطلاع دی تھی، چوکیدارکی اطلاع کے بعد ذاکرجعفرنے تھراپی ورکس کے مالک کو آگاہ کیا۔

عدالت نے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی دیتے ہوئے لکھا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے اعانت قتل بھی قتل کرنے جیسا ہی سنگین جرم ہے، اعانت جرم اِن ڈائریکٹ بھی ہو سکتی ہے جس کے لیے واقعاتی شواہد کافی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلیک لاء ڈکشنری کے مطابق اپنا فرض ادا نہ کرنا بھی اعانت جرم ہے۔

عدالت نے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ ظاہرجعفر نے بیان میں کہا اس نے والد کو قتل سے پہلے آگاہ کیا تھا، ظاہرجعفر کا بیان قابل قبول ہے یا نہیں فیصلہ ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے، ٹرائل کورٹ کو 8 ہفتوں میں کیس کا ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

خیال رہے کہ ذاکر جعفر اور عصمت ذاکر نے نور مقدم قتل کیس میں ضمانت کی درخواستیں دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ نور مقدم کے قتل سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ عدالت میں پیش کیے گئے پولیس چالان میں کہا گیا تھا کہ اگر ظاہر جعفر کے والدین پولیس کو بروقت اطلاع کرتے تو نور مقدم کو بچایا جا سکتا تھا۔