زرداری اور فواد کیخلاف نااہلی درخواستوں کا فیصلہ آئندہ سماعت پر سنائیں گے: اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ آئندہ سماعت پر آصف زرداری اور فواد چوہدری کے خلاف دائر درخواستوں سے متعلق فیصلہ سنائیں گے۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر فواد چوہدری کو نااہل قرار دینے سے متعلق درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

آصف زرداری کےخلاف درخواست گزار خرم شیرزمان کی طرف سے فیصل چوہدری ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ فواہد چوہدری کیس میں بھی میں پیروی کروں گا جس کے لیے ان کے خلاف نااہلی کے لیے دائر درخواست کی کاپی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ آصف زرداری کے خلاف نیب تحقیقات کر رہا ہے تو ہم کیوں یہ معاملہ دیکھیں؟ درخواست گزار خرم شیر زمان کے وکیل نے کہا کہ میں ابھی میرٹ پر بات نہیں کروں گا، ابھی کیس اسٹڈی کرنا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ منتخب نمائندوں کے خلاف یہ عدالت درخواستیں کیوں سنے؟ یہاں سے فیصلہ ہو تو کہتے ہیں پولیٹیکل انجنیئرنگ کر رہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جب عوام سب جانتے ہوئے ایسے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں تو ہم کیوں مداخلت کریں، دیگر فورم بھی موجود ہیں، پارلیمنٹ خود کیوں احتساب نہیں کرتی؟ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عدالتوں سے ایسے معاملات کے فیصلوں کے اثرات الگ ہوتے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک ایم این اے کو نااہل قرار دیا، بعد میں اس کی اپیل سپریم کورٹ سے منظور ہو گئی، اُس حلقے کے عوام کو خاطر خواہ وقت تک نمائندگی سے محروم رہنا پڑا، وزیراعظم 5 حلقوں سے منتخب ہوئے، ان کے خلاف بھی درخواست آگئی تھی، ہم نے وہ درخواست نہیں سنی، صرف نوٹس جاری کرنے سے بھی منفی اثرات ہوتے ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی اکثریت ہے، آپ آصف زرداری کے خلاف عدالت کیوں آئے؟ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ خود احتسابی کا سب اداروں میں نظام موجود ہے، پارلیمنٹ بھی اپنا خود احتسابی کا نظام کیوں نہیں بنا لیتی؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے زیادہ اہم ان غریبوں کے کیسز ہیں جنہیں بنیادی حقوق بھی میسر نہیں ہیں۔

عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر فواد چوہدری اور آصف زرداری کی نااہلی سے متعلق کیس کا فیصلہ کریں گے، وکلاء دلائل سے مطمئن کریں کہ عدالت ایسے کیس کیوں سنے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق دلائل 4 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دیتے سماعت ملتوی کر دی۔