وزیر خارجہ دورہ امریکا کے بعد لندن کے لیے روانہ

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکا کا 6 روزہ دورہ کامیابی سے مکمل کر کے لندن کے لیے روانہ ہوگئے، ان کا دورہ سفارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکا کا 6 روزہ دورہ کامیابی سے مکمل کر کے لندن کے لیے روانہ ہوگئے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم اور پاکستانی سفیر اسد مجید نے وزیر خارجہ کو الوداع کیا۔

20 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 76 واں اجلاس ہوا تھا جس میں شاہ محمود قریشی نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی، وزیر خارجہ نے کونسل آن فارن ریلیشنز میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جہاں انہوں نے پاک امریکا تعلقات اور افغانستان و عالمی امور پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔

شاہ محمود قریشی نے عالمی میڈیا سے بھی گفتگو کی اور ان کے سامنے بھی مختلف امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
وزیرخارجہ نے امریکی ہم منصب انٹونی جے بلنکن سے ملاقات کی، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، افغان صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور زیر غور آئے۔ امریکی وزیر خارجہ نے انخلا کے عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

وزیر خارجہ یورپی یونین کے خارجہ تعلقات اور سلامتی کے سربراہ بوریل جوزف سے بھی ملے۔ وزیر خارجہ او آئی سی رابطہ گروپ کشمیر کے اجلاس میں بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں انہوں نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا۔

انہوں نے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، صدر ریڈ کراس اور یو این کمشنر سے بھی ملاقاتیں کی جس میں انہوں نے عالمی برادری کی توجہ افغانستان میں انسانی المیے کی جانب مبذول کروائی۔ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، انڈونیشیا، پرتگال، بیلجیئم، آئر لینڈ، سوئیڈن، ناروے، آسٹریا جاپان و دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کی۔

وزیر خارجہ نے نیویارک میں پاکستانی امریکن کمیونٹی سے خطاب کیا، ڈی ایٹ فورم میں شرکت کی اور اظہار خیال کیا، اتحاد برائے اتفاق فورم میں شرکت کی اور اظہار خیال کیا جبکہ آبی وسائل اور ماحولیاتی تبدیلی پر ورچوئل فورم سے بھی خطاب کیا۔

وزیر خارجہ نے نیویارک میں پاکستانی میڈیا نمائندگان سے بھی گفتگو کی اور انہیں افغانستان کی صورتحال اور اہم امور پر پاکستانی مؤقف سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے جنرل اسمبلی اجلاس سے ورچوئل خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے پاکستان کی نمائندگی کی اور جنرل اسمبلی ہال میں موجود رہے، وزیر خارجہ کا دورہ سفارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔