(سینٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اجلاس )ملک بھر میں چائینہ کٹنگ، سی ڈی اے کی جانب سے مساجد کو شہید کرنے پر برہمی ، کمیٹی بنانے کا حکم

اسلام آباد میں گداگری کی روک تھام، انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کے حوالے سے مزید ترمیم کی ضروت پر زور ،ایس کے نیازی کی خصوصی شرکت
اسلام آباد(خبر نگار)سینٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹررحمان ملک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میںپاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور سنیئراینکر پرسن سچی بات ایس کے نیازی ،سیکرٹری داخلہ نسیم کھوکھر اور ارکین کمیٹی نے شرکت کی سینٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے ملک بھر سمیت اسلام آباد میں چائینہ کٹنگ کا معاملہ اور سی ڈی اے کی جانب سے مساجد کو شہید کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا حکم دے دیا۔کمیٹی نے صوبہ سندھ میں غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ کے غیر قانونی اجراء پر زمہ دارن کے خلاف قانونی کاروائی کرنے اور نادرا میں ایف آئی اے اور امیگریشن کی مدد سے ڈیٹا بیس قائم کرنے سمیت اسلام آباد میں گداگری کی روک تھام، انسداد دہشت گردی ترمیمی بل کے حوالے سے مزید ترمیم کی ضروت پر زور دیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کی طرف سے 27 جولائی2020 کو ایوان بالاء کے اجلاس میں متعارف کرائے گئے اسلام آباد میں گداگری کی روک تھام کا بل 2020، سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے 27 جولائی2020 کو سینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020،سینیٹر سسی پلیجو کے 10 جنوری2020 کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ سندھ میں رہنے والے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ کے غیر قانونی اجراء ، سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی جانب سے 22 جولائی 2020 کو سینیٹ اجلاس میں اٹھائے گئے عوامی اہمیت کے معاملہ برائے سی ڈی اے کی جانب سے مساجد کو شہید کرنے، قائمہ کمیٹی کی 13 اگست2020 کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں نادرا میں ایف آئی اے اور امیگریشن کی مدد سے ڈیٹا بیس قائم کرنے کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے 30 جون2020 کو ریفر کی گئی گاڑیوں کی چوری کے متعلق عوامی عرضداشت کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ کے اسلام آباد میں گداگری کی روک تھام کا بل 2020 اور انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020 کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ان بلوں میں مزید ترمیم کی ضروت ہے اور محرک بل نے کہا کہ وہ ان کو واپس لے کر ترمیم کے نیاڈرافٹ کمیٹی میں پیش کریں گے جسے کمیٹی نے منظور کر لیا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لیفٹینٹ ناصر خالد و دیگر شہدا کی شہادت، سابق فاٹا کی مہمند ایجنسی کی کان میں دھماکے اور سیلاب کے دوران جابحق ہونے والے افراد کے لئے دعائے مغفرت کی اور قائمہ کمیٹی نے وزیرِداخلہ اعجاز شاہ کے بھائیوں کی وفات پر دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دعائے مغفرت بھی کی۔ قائمہ کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم وبربریت اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کے خلاف ایک قرار داد پیش کرتے ہوئے بھارتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے عاشورہ جلوسوں پر حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قرار داد بھی پاس کی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا ک ایک بڑے عرصے کے بعد محرم الحرام امن و امان سے گزرا ہے۔وزارت داخلہ کو اس حوالے سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔قا ئمہ کمیٹی نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک قرار داد بھی پاس کی۔قائمہ کمیٹی داخلہ نے وزارت داخلہ اورملک میں قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کومحرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے پر شاباش د ی۔ انہوں نے کہا کہ محدود ذرائع، مشکل حالات اور شرپسند عناصر کیطرف سے دہشت گردی کے خطرات کے باوجود امن و امان برقرار رکھنا قابل ستائش ہے۔ قائمہ کمیٹی امن کمیٹیوں اور مذہبی اسکالرز کو بین المذاہب ہم آہنگی برقرار رکھنے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے غیر ملکیوں کو خلاف قانون ویزہ اجرا کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے غیرملکیوں کو خلاف ضابطہ ویزوں کے اجراء میں ملوث نادرا ملازمین کو قانون کے کہٹرے میں لانے کی ہدایت کی اور وزارت داخلہ کو کہا کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ غیر قانونی غیرملکیوں کو فوری ملک بدر کیا جائے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ غیرملکی بغیر ویزے کے پاکستان میں آزاد پھیر رہے ہیں۔قانون کے مطابق غیر قانونی غیرملکیوں کو تحویل میں لے کر قانونی سزا کے بعد ملک بدر کرنا ہوتا ہے۔کمیٹی نے غیرملکیوں کو خلاف قانون ویزوں کی اجراء پر ایک قرارداد بھی منظور کی۔قرارداد میں وزارت داخلہ سے ملوث افراد کو سخت سزا دینے کی تجویز دی گئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جب غیر ملکیوں کا ویزا ختم ہو جاتا ہے تو ان کو بروقت واپس چلے جانا چاہیے۔وزارت داخلہ نے غیر قانونی غیر ملکیوں کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 6 ہزار افراد کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ کمیٹی اس کو سراہتی ہے۔سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ ملک بھر اور خاص طور پر صوبہ سندھ میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی بھر مار سے سیکورٹی و دیگر مسائل پیدا ہو رہے ہیں یہ انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ کراچی میں غیر قانونی غیر ملکیوں کاتعداد میں اضافہ ہو چکا ہے اور دس لاکھ سے زائد غیر قانونی غیر ملکی رہائش پذیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسئلے کا حل انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ نادرا کے ملازم نے رسول بخش پلیجو کی نظم فیس بک پر شیئر کی تو اسے نوکری سے معطل کر دیا گیا ہے۔نادرا لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی شناختی کے اجراء میں ملوث ملازمین کے خلاف اقدامات کیوں نہیں لیتا۔ صوبہ سندھ میں پانی، این ایف سی ایوارڈسمیت دیگر مسائل بھی ہیں ایک میکنزم ہونا چاہیے جس کے تحت ان کا جائزہ لیا جا سکے۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پراکسی وار کو کنڑول کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے۔کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ کراچی میں دوبارہ مردم شماری کرائی جائے اور اس فارم کی تیاری میں کمیٹی سے مشاورت کی جائے۔قائمہ کمیٹی سینیٹر رانا مقبول احمد کی سربراہی میں اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں سینیٹر حاجی مومن خان آفریدی، سینیٹر سسی پلیجو بطور خصوصی انوائٹی اور وزارت داخلہ کے حکام شامل ہونگے۔چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ نادرا ایسے کیسز کو ایف آئی اے کو فراہم کرے اور وزارت داخلہ ایک خصوصی سیل قائم کرے جس میں غیر قانونی غیر ملکیوں کے حوالے سے الرٹ بھی جاری کیے جا سکیں اور ان کے معاملات کا جائزہ بھی لیا جا سکے۔ قائمہ کمیٹی داخلہ نے ڈی جی پاسپورٹ کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کراچی امدادی پیکج کے تناسب کے حوالے سے تنازعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے معاملات سے ملک پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ قائمہ کمیٹی وزیراعظم پاکستان سے سفارش کرتی ہے کہ مسئلے کو خود دیکھتے ہوئے اس کا حل نکالیں اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو معاملہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اٹھایا جائے گا اور وزارت داخلہ سے اس حوالے سے رپورٹ بھی طلب کر لی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاملے کے حوالے سے میڈیا پر ایک مقابلہ پیش کیا جارہا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے پاکستان ہمارا ملک ہے اور ہمیں قانون کے مطابق معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بھارت ملک میں آبی دہشت گردی میں ملوث ہو رہا ہے جب ملک میں فصلوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو پانی بند کر دیا جاتا ہے اور سخت بارشوں کے موسم میں اپنے ڈیموں کے منہ کھول کے پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا کر کے ملک کو نقصان پہنچاتا ہے۔اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہیے۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں موٹر وے پر رونما ہونے والے زیادتی کے کیس کا سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے وزارت داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی دلخراش واقعہ ہے۔ملوث مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ سزا دینے سے ہی اس طرح کے واقعات روک سکتے ہیں۔سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبائی حکومت پنجاب نے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی ہے اس کی انکوائری رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کر دی جائے گی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چائنہ کٹنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں چائنہ کٹنگ فروغ پا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ دیا ہوا ہے کہ ملک میں چائنہ کٹنگ کو ختم کیاجائے مگر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سی ڈی اے کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی بنائیں۔ سینیٹر کلثوم پروین اس کو سپر وائز کریں گی۔ دو ہفتے میں رپورٹ دی جائے کہ ملک میں ایسے کتنے کیسز ہیں اور کتنے کیسز کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے اسلام آباد کے نالوں پر قائم چھوٹے ہوٹلوں کے مضر صحت کھانے کا بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے ایجنڈے کے معاملے کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کے علاقہ ہمک میں سی ڈی اے نے ایک مسجد شہید کر دیا ہے اس علاقے میں عدالت کے حکم پر 47 غیر قانونی قابضین جگہوں کی نشاندہی کی گئی مسجد کے علاوہ کہیں ایکشن نہیں لیا گیا۔ محکمہ اوقاف نے مسجد دینے کی ہدایت بھی کر رکھی تھی۔ اس علاقے میں دس مساجد دیگر مسالک کو بھی دی گئی ہیں۔ جس پر قائمہ کمیٹی نے مسجد کو شہید نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سی ڈی اے سے رپورٹ طلب کر لی۔قائمہ کمیٹی نے محکمہ اوقاف کو بھی طلب کر لیا اور ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی سفارش بھی کر دی۔کمیٹی اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری سینیٹ سیکرٹریٹ کی گاڑی چوری کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ عبداللہ نامی بندہ گاڑی چوری میں ملوث ہے جو چار سدہ کا رہائشی ہے اور افغانی ہے۔قائمہ کمیٹی نے تین دن کے اندر عبداللہ کو شناختی کارڈ جاری کرنے والے نادر ا ملازم کو گرفتار کرنے کی ہدایت کر دی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ عبداللہ کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا اور وہ چارسدہ میں اپنا مکان بنوا رہا ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے وزارت داخلہ کوآگاہ کیا کہ اطلاع کے مطابق 27 افراد ملک میں داخل ہو چکے ہیں جو مذہبی فرقہ واریت، مذہبی تعصب اور دہشت گردی کے واقعات کروا سکتے ہیں اس کے خلاف اقدامات اٹھائیں جائیں۔قائمہ کمیٹی نے وزارت داخلہ کے ایڈیشنل ڈرافٹ مین کے مسئلے کے حوالے سے سی سی پی او اور ڈی پی او کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز کلثوم پروین، سردار محمد شفیق ترین، رانا مقبول احمد، حاجی مومن خان آفریدی، سسی پلیجو اور پروفیسر ساجد میر کے علاوہ سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ شیر عالم مسعود، چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد محمد حمزہ شفقات، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے، ڈی جی نادرا، ایس پی راولپنڈی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔