دفتر خارجہ نے دہشتگردی کے ماڈیول کو تباہ کرنے کا بھارتی دعویٰ مسترد کر دیا

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ : دفتر خارجہ نے دہشتگردی کے ماڈیول کو تباہ کرنے کا بھارتی دعویٰ مسترد کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کےخلاف پروپیگنڈا اور سفید جھوٹ بھارتی مہم جوئی کا حصہ ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کے اس دعویٰ کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ اور سفید جھوٹ پاکستان کے خلاف بھارت مہم جوئی کا ہی ایک حصہ ہے، بھارت کا جھوٹ پہلے ہی ای یو ڈس انفو لیب کے ذریعے بے نقاب ہوچکا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سب جانتے پلانٹڈ میڈیا کے ذریعے جھوٹ پھیلانا بھارت کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے، حقیقت میں بھارت پاکستان کے تازہ ڈوزئر میں مقبوضہ جموں کشمیر میں مظالم سے متعلق ناقابل تردید شواہد سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ درحقیقت بھارت کی جانب سے جعلی مقابلے اور فیک آپریشنز پہلے ہی دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں۔یاد رہے کہ ای یو ڈس انفو لیب نے بھارت کا جعلی فورم بے نقاب کیا تھا۔ ھارتی گروپ سری واستوا نے پاکستان کے خلاف عالمی رائے بدلنے کی کوششوں کے سلسلے میں جو جعلی ویب سائٹس اور فورمز بنائے ساؤتھ ایشین ڈیمو کریٹک بھی اس کا حصہ تھا۔ فورم 2011ء میں بنا اور ایک عرصے سے پاکستان کو ہدف بنا رہا تھا۔

فورم تنقیدی پروگراموں کے انعقاد کے لئے لابنگ کرتا آ رہا ہے۔انفو لیب کے بے نقاب کرنے پر فورم کے تمام ڈائریکٹرز مستعفی ہو گئے، استعفٰی دینے والوں میں اہم رکن کرسٹین فیئر بھی شامل ہیں۔ رواں برس کے آغاز پر بھارت کے ان تمام جعلی فورمز کا بھانڈا پھوٹنے پر پاکستان کے خلاف بھارت کی ہرزہ سرائی اور پراپیگنڈہ کرنے کی سازشیں عالمی سطح پر بھی بے نقاب ہونا شروع ہوا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ بھارت کو کوئی جھوٹ بے نقاب ہوا ہو یا کسی جعلی فورم کا بھانڈا پھوٹا ہو۔

اس سے قبل بھی گذشتہ برس دسمبر میں بھارت کی انڈین کرونیکلزای یو کے نام سے پاکستان مخالف ویب سائٹ، برسلز کے تحقیقاتی ادارے ڈس انفولیب نے بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب کیا تھا۔ اس فورم کے ذریعے بھی بھارت کئی برسوں سے غلط مواد پر مشتمل خبریں بنا کر یورپی یونین و اقوام متحدہ کو گمراہ کررہا تھا۔ بھارت کی جانب سے غلط خبروں کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا یورپ میں پھیلایا جاتا تھا۔