کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات کیلئے پولنگ کا عمل جاری، سکیورٹی کے سخت انتظامات

پاکستان بھر میں کنٹونمنٹ بورڈزکے انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔

ملک کے41 کنٹونمنٹ بورڈز کے 206 وارڈز میں 1560 امیدوار میدان میں ہیں، پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن میں حصہ لینے والے 7 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ کامرہ کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخاب نہیں ہو رہا، اس کے علاوہ راولپنڈی اورپنوں عاقل کےایک ایک وارڈ میں بھی انتخاب ملتوی ہو چکا ہے۔

ملتان میں پولنگ اسٹیشن پر جھگڑا، پولنگ عارضی طور پر معطل
لاہور میں مسلسل تین روز سے ہونے والی بارش کے باعث مختلف علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے کچھ پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہوا جبکہ ملتان میں وارڈ نمبر 4 کے پولنگ اسٹیشن پر دوبار جھگڑا ہونے کے باعث پولنگ کا عمل عارضی طور پر روکا گیا۔

ن لیگ کا پولنگ عملے پر الزام
گجرانوالہ کنٹونمنٹ الیکشن کے لیے ن لیگ کے امیدوار ملک آزاد نے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولنگ عملہ ہمارے ووٹرزکو ووٹ کاسٹ کرنے سے روک رہا ہے۔ ملک آزادکا کہنا تھا کہ ہمارے ووٹوں پربلا وجہ اعتراضات لگائے جا رہے ہیں، شکایت کرنے اندر گیا تو مجھے بھی روک لیا گیا۔

سکیورٹی کے سخت انتظامات
ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے لیے پولنگ کے موقع پر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے صوبائی حکومتوں کو انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر کیمرے نصب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران گنتی کے بعد پولنگ اسٹیشنز پر نتائج کا اعلان کریں گے، تمام پولنگ ایجنٹس اور امیدوار نتیجے کی کاپی پریزائیڈنگ افسران سے حاصل کریں گے۔

کنٹونمنٹ بورڈزکے الیکشن میں ملک بھر سے 684 آزاد امیدوار میدان میں ہیں جبکہ سیاسی جماعتوں کے بھی 876 امیدوار پنجہ آزمائی کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کی ہے جو 183 ہے، پاکستان مسلم لیگ ن کے144،پاکستان پیپلز پارٹی کے 113 اور جماعت اسلامی کے 104 امیدوار میدان میں ہیں۔

کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے 83 امیدوار بھی الیکشن لڑ رہے ہیں، متحدہ قومی موومنٹ کے 42، پاک سرزمین پارٹی کے35، مسلم لیگ ق کے 34 اور جے یو آئی ف کے 25 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔