ملکی مسائل کا حل اٹھارویں ترمیم کی شقوں میں تبدیلی یا صدارتی نظام

اٹھارویں ترمیم پر بحث کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ون پوائنٹ ایجنڈے کے تحت ایوان زیریں اور بالا کا اجلاس بلائیں اور اس میں اس ترمیم کے حوالے سے بلا تفریق بحث و تمحیص کی جائے ، جن شقوں میں ترمیم کرنی ہے ان میں ترامیم کی جائیں ، ہم اس حق میں نہیں کہ 18ویں ترمیم کو ختم کردیا جائے ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وقت کے ساتھ جن چیزوں کی ضرورت ہے اس کے تحت ترامیم کی جائیں مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے اس ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں ان پرسن پیش ہوتا رہا اور دس سال قبل اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے جن تحفظات کا میں نے اظہار کیا تھا، آج حکومت اوردیگر لوگ بھی اس پر بات کر رہے ہیں ،دراصل مسئلہ کیا ہے؟ اپوزیشن اٹھارویں ترمیم پر اتنا شور و غوغا کیوں مچا رہی ہے اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ جب اٹھارویں ترمیم پیش کی گئی تھی تو اس وقت اپنے ذاتی مفادات کی خاطر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک پیج پر اکھٹے ہو گئے تھے ۔وفاق کو کمزور کرنے کے لیے اس میں ایسی شقیں ڈالی گئیں جس کی وجہ سے صوبے زیادہ مضبوط ہو ئے لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس کے منفی اثرات سامنے آتے چلے گئے ۔اس کے ساتھ ہی کنکرنٹ لسٹ بھی انتہائی اہم ہے اس لسٹ کو دوبارہ سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس میںبھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنے ذاتی مفادات کو ہی مد نظر رکھا ، نیز ترقیاتی کاموں سمیت دیگر جن مدوں میں صوبوں کو وفاق سے مالی امداد فراہم کی ان سے مطلوبہ مسائل حل نہیں ہوئے ،البتہ یہ پیسہ کسی اور ہی طرف نکلتا چلا گیا، کم از کم تعلیم ،صحت سمیت دیگر ایسے اہم ایشوز ہیں جو وفاق کے پاس ہونے چاہئیںتھے ۔ 18ویں ترمیم میں ایک شق یہ بھی ہے جب وزیراعظم سمجھے گا کہ پارلیمانی نظام اس ملک کے لیے مناسب نہیں تو وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں یہ تجویز رکھے گا کہ ہم دوسرے نظام یعنی کہ صدارتی نظام کی طرف جانا چاہتے ہیں ۔ دونوں ایوانوں کی جانب سے متفقہ طور پر یہ تجویز یا قرار داد منظور ہو جائے تو پھر آپ دوسرے نظام کی طرف سفر کر سکتے ہیں ۔یہی وہ شق ہے جس کو پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے متحد ہو کر اٹھارویں ترمیم کا حصہ بنایا چونکہ وہ صوبائی سطح پر اپنے آپ کو مضبوط کرنا چاہتے تھے سو انہوں نے کر لیا ۔اگر ہم بغورجائزہ لیں تو ان دونوں جماعتوں کی جانب سے یا قابل ذکر اپوزیشن کے دیگر رہنمائوں کی طرف سے ہمیشہ یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ اٹھارویں ترمیم کو بلڈوز نہیں ہونے دیں گے ۔ کبھی وہ آئین کی بات نہیں کرتے کیونکہ آئین میں نہیں اٹھارویں ترمیم میں ان کے مفادات مضمر ہیں لیکن جب ملک میں درپیش مسائل انتہا کو پہنچ جائیں تو پھر یقینی طور پر ایسے نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے عوام کو بنیادی سہولیات جن میں ، تعلیم اور صحت شامل ہے میسر ہوسکیں۔پھر ایسے نظام کا کیا کرنا ہے لیکن ایک بات ہم یہاں بتاتے چلتے ہیں کہ اپوزیشن جو مرضی کر لے وزیراعظم پاکستان عمران خان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی کرم ہے کہ وہ جو بھی قرار داد ، بل یا قانون سازی کرانا چاہتے ہیں وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ہم پھر ایک دفعہ اس بات کی جانب آتے ہیں کہ اب ملک میں صدارتی نظام کی ضرورت ہے ۔یہ ہی ملک اور عوام کے لیے بہتر ہو گا ۔کیونکہ پارلیمانی نظام میں عوام کو وہ سہولیات میسر نہیں ہو رہی جو کہ جمہوریت اور جمہور کا حق ہوتا ہے۔لہذا ایسے نظام کا کیا کرنا کہ جس سسٹم کے تحت حق دار کو اس کا حق ہی نہ مل سکے ۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی صدارتی نظام چلتا رہا لیکن کامیاب نہ رہا لیکن اب حالات مختلف ہیں یہ تو بات تھی صدارتی نظام کے حوالے سے اب ایک دوسرا مسئلہ ایف اے ٹی ایف کا ہے جس کے حوالے سے بہت زیادہ بحث چل رہی ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے حکومت سر توڑ کوششیں کر رہی ہے اس سلسلے میں بہت سارے مثبت اقدام اٹھائے جا چکے ہیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فیٹف کے حوالے سے اپوزیشن اور بھارت ایک پیج پر ہیں کیونکہ دونوں ہی اس ملک کے مخالف ہیں ان کو اپنے مفادات درکار ہیں لیکن وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم ہر وہ کام کریں گے جو ملک اور قوم کے مفادمیں ہو اپوزیشن چاہے جتنا مرضی شور مچا لے، زور لگا لے حکومت کسی طرح بھی بلیک میل نہیں ہو گی ، ان کو این آر او نہیں دیا جائے گااور نہ ہی کوئی ایسی مفاہمت کی جائے گی جس سے یہ راہ فراراختیار کر سکیں ۔ لیکن ایک بات انتہائی اہم ہے کہ آیا ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے جو قانون سازی کی جائے گی یا اس سلسلے میںبل منظور کرایا جائے گا آیا وہ ملک اور قوم کے مفاد میں ہے۔ کیافیٹف کے سلسلے میں ہمارے پاس نظام موجود ہے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ملک بھرکے کتنے فیصد عوام بینکنگ کے نظام سے منسلک ہیں، کتنے فیصد لوگ کریڈیٹ کارڈ استعمال کر تے ہیں کیا فیٹف کے بعد ہماری معیشت کو دھچکا نہیں لگے گا ۔ کیا کاروبار محدود نہیں ہو جا ئے گا۔ ہم ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور بڑے بڑے ملک فیٹف جیسے معاملات کر کے اپنے مفادات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم ان ممالک کو آگاہی کرائیں کہ فی الوقت ہم اس کو دیکھ رہے ہیں اور جہاں تک ممکن ہو سکے گا اس پر عمل کریں گے ۔لیکن اب جو عمران خان کا ویژن ہے اس کے تحت وہ کام کررہے ہیں چونکہ وزیراعظم خود نیک اور دیانتدار شخصیت کے حامل ہیں۔جو بھی اس ملک کے حق میں بہتر ہو گا وہ اقدامات اٹھا رہے ہیں لہذا ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے حکومت جو فیصلہ کریگی وہ مناسب ہی ہو گا۔ شہر قائد کو ہی دیکھ لیجئے کہ وہاں پر بارشوں کی وجہ سے قیامت صغریٰ مچی ہوئی ہے ۔ عوام ڈوب کر مررہی ہے ۔ سارا نظام تلپٹ ہے لیکن سندھ حکومت کیا کررہی ہے ۔ یہ وہ سوال جس پر ہر ذی شعور شخص پریشان ہے ۔پیپلز پارٹی نے سندھ کے لیے کیا کیا ۔ زرداری نے پیپلز پارٹی کوختم کرنے کے لیے بہت دل لگا کر محنت کی اوروہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوگئے ۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ کراچی کے مسائل کو اگر حل کرنا ہے تو پیپلز پارٹی سے اختیارات لے لیے جائیں کیونکہ یہ لوگ سیاست اور عنان اقتدار میں رہ کر پیسہ لینا، کاروبار کرنے کو جائز سمجھتے ہیں یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جس سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے جب ایک شخص سیاست میں آ گیا تو پھر اس کا منبہ و مقصد عوامی خدمت ہونا چاہیے وہ کاروبار کیوں کرے ۔ اس کو تو عوام کا خادم ہونا چاہیے ۔ اور اس خدمت کے عوض پیسے کیوں لے ۔؟ہم حکومت سے یہ بھی گزارش کریں گے کہ وہ یہ بھی قانون سازی کرے کہ جب کوئی بھی انتخابات میں منتخب ہو کر ایوانوں تک پہنچے تو حلف اٹھانے سے پہلے اسے اپنے تمام اثاثہ جات کا اعلان کرنا چاہیے اور جس دن وہ اقتدار سے روانہ ہو تو بھی اپنے اثاثے ظاہر کر ے اگر ان اثاثوںمیں ایک پائی کا بھی اضافہ ہو تو تحقیقات ہونا چاہئیںکہ یہ پیسہ کہاں سے آیا ۔ سیاستدان کا کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے اس کے لیے کاروبار شجر ممنوعہ قرار دیا جائے۔ اگر وزیراعظم یہ اقدامات اٹھا جاتے ہیں ، قانون سازی کرا لیتے ہیں توانہیں یقینی طور پر تاریخ میں سنہرے حروف سے یاد رکھا جائیگا ۔ان خیالات کا اظہار روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔