سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف نیا لارجر بینچ تشکیل

لاہور: سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف نیا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا، لاہور ہائیکورٹ کا لارجر بینچ چودہ ستمبر سے درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے خلاف سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، لارجر بینچ کی سربراہی چیف جسٹس محمد امیر بھٹی کی کریں گے۔ بینچ کے دیگر ججز میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان,جسٹس مس عالیہ نیلم ،جسٹس شہباز رضوی ،جسٹس سردار احمد نعیم ،جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں، لاہور ہائی کورٹ کا لارجربینچ 14 ستمبر سے درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آٸی ٹی پنجاب حکومت نے تشکیل دی تھی جسکے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دو درخواستیں دائر کی گئی تھیں ۔ لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی نئی جے آئی ٹی کا نوٹیفیکیشن معطل کر رکھا ہے۔

یاد رہے 19 نومبر 2018 کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا اور 5 دسمبر کو حکومت کی جانب سے کیس میں نئی جے آئی ٹی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرانے پر سپریم کورٹ نے درخواست نمٹا دی تھی۔

بعد ازاں 3 جنوری 2019 کو محکمہ داخلہ پنجاب نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر نئی جے آئی ٹی تشکیل دی تھی ،جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ آئی جی موٹر ویز اے ڈی خواجہ ہیں۔ واضح رہے جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں جامع منہاج القرآن کے دفاتر اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے کے لیے خونی آپریشن کیا گیا، جس میں خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق جب کہ 90 افراد زخمی ہو گئے تھے۔