نور مقدم کے والد نے 6 ملزمان کی ضمانت منسوخ کرانے کیلئے عدالت سے رجوع کرلیا

نور مقدم قتل کیس میں مقتولہ کے والد نے ’تھراپی ورکس‘ کے ملازمین اور مالک کی ضمانت منسوخ کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ نور مقدم کے والد نے ایڈیشنل سیشن جج کی جانب سے 6 ملزمان کو ضمانت دینے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ ملزمان واردات کے وقت موجود تھے، عدالت نے ضمانت دیتے وقت سپریم کورٹ کے طے کردہ قوانین کو نظر انداز کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملزمان مقتولہ کے والد شوکت مقدم کو دھمکا رہے ہیں، ضمانت منسوخ نہ کی گئی تو درخواست گزار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

نور مقدم قتل کیس.اسلام آباد کے تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 20 مئی کو 28 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔ نور مقدم قتل کیس کا ملزم ظاہر جعفر پولیس کی تحویل میں ہے جس کا پولیس کی جانب سے پولی گرافک ٹیسٹ بھی کرایا گیا ہے۔ حکومت نے نور مقدم قتل کیس کے ملزم کا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا ہے جب کہ وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہےکہ کیس کے ملزمان کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔