اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسامہ ستی قتل کیس میں دہشتگردی کی دفعات بحال کردیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے نوجوان اسامہ ستی کے کیس میں دہشت گردی کی دفعات بحال کردیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے اسامہ ستی کے قتل کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات بحال کرنےکا فیصلہ سنایا ہے۔ خیال رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گرفتار ملزمان کی درخواست پر ایف آئی آر سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرکے کیس کو ٹرائل کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹ بھجوا دیا تھا ۔

مقتول اسامہ ستی کے والد یونس ستی نے عدالتی فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر بینچ نے آج فیصلہ سنایا ہے۔ یاد رہےکہ رواں سال جنوری میں اسلام آباد میں اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے اہلکاروں کی فائرنگ سے 22 سالہ نوجوان اسامہ ستی جاں بحق ہو گیا تھا۔

ابتدائی طور پر پولیس نے واقعےکو ڈکیتی کا رنگ دیا تھا،بعد ازاں پانچ پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔