حکومت کا ایف اے ٹی ایف بلز پاس کرانے کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا منصوبہ

اسلام آباد: اپوزیشن کی اکثریت میں موجود ایوان بالا (سینیٹ) سے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بلز مسترد ہونے کے بعد حکومت اب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آئندہ ہفتے بلانے کا منصوبہ کر رہی ہے تاکہ یہ اہم قانون سازی ہوسکے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر سے فون پر بات کی اور پارلیمنٹ کے آئندہ مشترکہ اجلاس کے ایجنڈے پر بات کی تاکہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے ضروری بلز کی ہموار طریقے سے منظوری یقینی بنائی جاسکے اور ملک کو دہشت گردوں کی مالی معاونت والے ممالک کی گرے لسٹ سے باہر نکالا جاسکے۔

خیال رہے کہ 18ویں ترمیم کے پاس ہونے کے بعد اگر کوئی بھی بل پارلیمنٹ کے ایک ایوان سے پاس اور دوسرے سے مسترد ہوتا ہے تو پھر وہ دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے پاس ہونے کے بعد ہی صرف قانون بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت نے 6 اور 20 اگست کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا تھا۔

اس معاملے پر جب بابر اعوان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اب تک مشترکہ اجلاس کے لیے حتمی تاریخ نہیں طے کی گئی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے ساتھ مشترکہ ملاقات کریں تاکہ مشترکہ اجلاس کے لیے تاریخ اور ایجنڈے کو حتمی شکل دی جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار تھی لیکن قومی سلامتی اور احتسبا کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن صرف ‘قومی احتساب بیورو (نیب) کے دروازے پر تالہ’ لگانے میں دلچسپی رکھتی تھی۔

واضح رہے کہ 104 اراکین پر مشتمل سینیٹ نے 25 اگست کو اپوزیشن کے اعتراض کے بعد صوتی ووٹ کے ذریعے انسداد منی لانڈرنگ (دوسرا ترمیمی) بل اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری (آئی سی ٹی) وقف پراپرٹیز کے بل کو مسترد کردیا تھا جو ایک روز قبل ہی قومی اسمبلی سے پاس ہوئے تھے۔

اپوزیشن کی جانب سے قوانین کی کچھ شقوں پر اعتراض کیا گیا تھا جبکہ اپنے تعاون کو قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم کی جانب سے ان کی قیادت سے متعلق ریمارکس کے بعد پیش آئی صورتحال سے جوڑ دیا تھا۔

اپوزیشن کی جانب سے ان ریمارکس کے واپس لینے کے اصرار پر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا تھا کہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا۔

تاہم کچھ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہوں نے شہباز شریف اور آصف علی زرداری کا نام لیا تھا۔

اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے ان سے معافی کا بھی کہا گیا تھا جبکہ حکومتی اراکین نے یہ الزام لگایا تھا کہ اپوزیشن انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی۔

ان بلز کے مسترد ہونے کے بعد اپوزیشن نے ووٹنگ کے عمل کی پوری کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ یہ بلز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں نہیں بھیجے جاسکتے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کو انتہائی معمولی صرف 9 ووٹس کی برتری حاصل ہے لیکن حکومت پرامید ہے کہ وہ وہاں سے دونوں بلز کو پاس کرا لے گی۔

دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن کے رویے اور بلز مستر ہونے پر وزیراعظم عمران خان کا بھی فوری اور سخت ردعمل آیا تھا اور انہوں نے مختلف ٹوئٹس میں لکھا تھا کہ ‘میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کہ اپوزیشن رہنماؤں کے ذاتی مفادات اور ملک کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔’

انہوں نے کہا تھا کہ ‘چونکہ احتساب کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے، اپوزیشن رہنما پارلیمنٹ کو کام کرنے سے روکنے کی کوشش کرکے اپنا کرپشن کا پیسہ بچانے کے لیے بےتاب ہیں، ان لوگوں نے پہلے حکومت کی کورونا کے خلاف موثر حکمت عملی کو کمزور کرکے اور اب پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرکے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ‘اپوزیشن اپنی لوٹ مار کو بچانے کے لیے جمہوریت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہے، انہوں نے این آر او حاصل کرنے کے لیے نیب کو بدنام اور حکومت کو بلیک میل کیا جبکہ یہ ملکی معیشت کو تباہ کرکے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں بھی شامل کروا دیتے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ لوگ این آر او نہ ملنے تک حکومت کو گرانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔’

عمران خان نے کہا تھا کہ ‘میں واضح کرتا چلوں کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، میری حکومت کوئی این آر او نہیں دے گی کیونکہ یہ قوم کے اعتماد کے ساتھ غداری ہوگی’۔

وزیراعظم کے ٹوئٹس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بلز کی مخالفت کے اقدام کا دفاع کیا گیا تھا۔

سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے ٹوئٹس کرتے ہوئے کہا کہ ‘سینیٹ میں بلز کی مخالفت کی گئی کیونکہ ان میں وارنٹ کے بغیر گرفتاری کا اختیار پولیس اور تفتیش کاروں کو دیا گیا ہے، اس کا ایف اے ٹی ایف نے مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی صورت اس کا دفاع کیا جاسکتا ہے یہاں تک کہ سب سے زیادہ تنگ نظر جمہوریت میں بھی نہیں، ایسے قوانین سفاکانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔’

انہوں نے کہا تھا کہ ‘ہم نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بچانے اور بنیادی حقوق کی پامالی سے روکنے کے لیے کمیٹیوں میں قوانین کی ترمیم کے حوالے سے کافی محنت کی ہے، ایف اے ٹی ایف کو نیب کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ اپوزیشن کا شکار کیا جاسکے۔’

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی نے بھی مجوزہ بلز کو ‘کالا قانون’ قرار دیتے ہوئے اسے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کہا تھا۔