اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی توثیق کردی

اسلام آباد: سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے شوگر بحران کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کے تشکیل کردہ کمیشن کو غیر قانونی قرار دینے کے ایک روز بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے نہ صرف کمیشن کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا بلکہ اس کی رپورٹ کی توثیق بھی کردی جس میں شوگر ملز کے خلاف عوام کے پیسے کا غلط استعمال اور کارٹلائزیشن کے لیے فوجداری مقدمات کی سفارش کی گئی تھی جس کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میان گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

اس سے قبل جسٹس اطہر من اللہ نے شوگر ملز کے خلاف انکوائری رپورٹ کی منظوری دی تھی اور کہا تھا کہ انکوائری ایجنسیز قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کرسکتی ہیں۔

کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو شوگر اسکینڈل کی آزادانہ اور الگ الگ تحقیقات کرنے کی ہدایت کی تھی۔