ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 32 فی صد بچے اسکول نہیں جارہے، ادارہ شماریات

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 32 فی صد بچے اسکول نہیں جا رہے۔ پاکستان کے سماجی اور معیارات زندگی سے متعلق ادارہ شماریات نے سروے رپورٹ جاری کی ہے، ادارہ شماریات نے ملکی تاریخ میں پہلی بار الیکٹرانک سروے کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 32 فی صد بچے اسکول نہیں جا رہے،ملک میں شرح خواندگی 60 فی صد پر جمود کا شکار ہے،سندھ میں شرح خواندگی میں کمی آئی ہے، پرائمری،مڈل اور میٹرک کی سطح پر اسکول میں داخلےجمودکا شکار ہیں۔

سروے کے مطابق اسکول میں داخلے کے حوالے سے پنجاب میں سب سےزیادہ ،کے پی میں دوسرے نمبر پر رہا، سندھ تیسرے اور بلوچستان آخری نمبر پر رہا،رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 47 فی صد،پنجاب میں 26 فی صد بچے اسکول نہیں جا رہے۔

ادارہ شماریات کے سروے کے مطابق کوروناکی پہلی لہر کے دوران ملک میں 40 فی صد گھرانےغذائی کمی کا شکار ہوئے، پاکستان میں 2فی صد گھرانے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں، 14فی صد گھرانےدرمیانی درجے کی غذائی کمی کا شکار ہیں، 84 فیصد گھرانے غذائی اعتبار سے محفوظ ہیں،غذائی قلت سب سے زیادہ بلوچستان میں ہے، بلوچستان میں 23 فیصدگھرانے شدید یا درمیانےدرجے کی غذائی کمی کا شکار ہیں، خیبرپختون خوا میں 14 فیصد گھرانے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ سروے نتائج کے مطابق ملک میں 93 فی صد آبادی کے پاس موبائل فون کی سہولت ہے، 65 فیصد مردوں اور 25 فی صد خواتین کے پاس موبائل فون ہیں ۔