سبزے کی کمی نے کراچی کو بے حس و بے جان کنکریٹ کا جنگل بنا دیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو سبزے کے بجائے کنکریٹ نے ڈھانپ لیا ہے۔

کراچی کے فضائی منظر کا نظارہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں کے باسی شہر میں پرندوں کی چہچہاہٹ اور کوئل کے نغمے سننے کو ترس گئے ہیں، شہر میں ایسے مقامات شاذو نادر ہی نظر آتے ہیں جہاں سبزہ آنکھوں میں ٹھنڈک پیدا کر دے اور بلبل کی صدا کانوں میں رس گھول دے۔

کراچی ایک بے حس و بے جان کنکریٹ کا جنگل بنتا جا رہا ہے جو زمانے کے سرد گرم سہہ کر خود اپنی صورت بگاڑ چکا ہے۔ شہر کے دیگر قبرستانوں کی طرح سخی حسن قبرستان میں بھی لواحقین اپنے پیاروں کی قبور کے سرہانے درخت لگا گئے ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے شہر خموشاں کو ڈھانپتے چلے گئے، دوسری جانب شہر کے سب سے بڑے پارک، بینظیر بھٹو پارک میں ایک بھی درخت نہیں ہے۔

ماہر ماحولیات توفیق پاشا کے مطابق کراچی میں مقامی درختوں کی کمی سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے،گھٹن بڑھ رہی ہے اور سانس لینا دو بھر ہو رہا ہے۔ توفیق پاشا کا کہنا ہے کہ سبزے کی کنجوسی اور گاڑیوں کے زہریلے دھوئیں نے شہریوں کی اوسط عمر 2 سال تک گھٹا دی ہے۔