بھارت جیسی کورونا صورتحال پاکستان کے دروازے پر بھی دستک دیتی نظر آتی ہے: ماہرین

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت جیسی کورونا صورتحال پاکستان کے دروازے پر بھی دستک دیتی دکھائی دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ یہ صورتحال اس لیے بھی ہوئی کہ بحران سر اٹھا رہا تھا مگر بھارت پر پیسہ بنانے کی دھن سوار تھی، دنیا میں ویکسین کی پیداوار میں صف اول بھارت نے اپنی ہی عوام کو فراموش کر دیا تھا۔ پانی سر سے اونچا ہو گیا تو ویکسین کی درآمد پر بھارت نے پابندی تو لگا دی مگر اس سے افریقا سمیت ان ممالک کو مسائل میں جھونک دیا گیا ہے جو بھارت سے ویکسین لینے کے طلبگار تھے۔

بھارت میں کورونا کی ہیبت ناک صورت حال پاکستان کے دروازے پر بھی دستک دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اگر نریندر مودی کی طرح کورونا کی پہلی لہر پر فتح کے شادیانے ہی بجاتے رہے تو بھارت کی طرح پاکستان میں بھی اسپتالوں کے اندر، باہر، سڑکوں، فٹ پاتھوں، گلیوں، بازاروں، کھیتوں اور کھلیانوں کے مناظر خوفناک و دل خراش ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : کورونا کی تیسری لہر، لاہور میں بڑھتے کیسز کے پیش نظر لاک ڈاؤن میں 17 مئی تک توسیع

کورونا کی پہلی لہر کے دوران اقدامات اور وبا کے پھیلاؤ میں کامیابیوں کو فتح کے میڈل سمجھ کر سینے پہ سجانے اور دنیا کو دکھانے والے بھارتی اور پاکستانی وزرائے اعظم کو اپنے ممالک میں کورونا کے نئے اور شدید حملوں کا سامنا ہے۔ کورونا کی نئی، بدمست اور بے قابو لہر نے بھارت میں جابجا خوف اور موت کے مہیب سائے پھیلا دیے ہیں، اسپتالوں میں آکسیجن ختم تو سڑکوں پہ زندگی سسک سسک کے دم توڑتی دکھائی دے رہی ہے، عورتیں، بچے اور بوڑھے حکومتی بے بسی پہ ماتم کناں ہیں۔

ماہرین کے مطابق بھارت نے رواں سال فروری مارچ میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کا نادر موقع گنوایا، بھارتی وزیراعظم نے فخر سے دنیا کو بتایا کہ بھارت کورونا کو شکست دے چکا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں کورونا کو شکست پر قرارداد بھی منظور کی گئی، اسی خوش فہمی میں دوسری کورونا لہر کے دوران بھارت میں سیاسی جلسوں اور کمبھ میلے کی کھلی آزادی رہی۔

کچھ اسی طرح پاکستان میں بھی ہوا، گزشتہ برس نومبر، دسمبر میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران باتیں زیادہ اور عمل کم ہوا، بازاروں، بس اڈوں، ریستورانوں، منڈیوں اور مارکیٹوں میں معمولات نام نہاد احتیاطی تدابیر کے ساتھ جاری رہے۔ پہلی لہر پر فتح اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے شادیانے بجائے گئے، پھر دوسری اور پھر تیسری نے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا۔

پاکستان میں کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کے دوران پہلی لہر جیسا لاک ڈاؤن اور احتیاطی اقدامات کہیں بھی دیکھنے کو نہ ملے۔ جون 2020 میں یومیہ کورونا کیسز کی تعداد تقریبا 7 ہزار تک پہنچ گئی، وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں دوسری بار لاک ڈاؤن کو خارج از امکان قرار دیا اور کہا کہ لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے، غریب، دیہاڑی دار بھوکے مارے جائیں گے۔

دوسری لہر کے دوران گزشتہ سال 24 دسمبر کو ملک میں سب سے زیادہ 111 اموات ہوئیں۔ ملک میں کورونا کی تیسری لہر یو کے سٹرین سب سے مہلک ثابت ہوئی، مارچ میں شروع ہونے والی اس لہر میں اموات کا تناسب 100 اور 150 کے درمیان تک پہنچ چکا تھا، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں آکسیجن کی کمی مریضوں اور لواحقین کے لیے کسی آفت ناگہانی سے کم نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بھارت جیسے جان لیوا خطرے سے نمٹنے کے لیے فوری پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔