پیٹرول بحران کے بااثر مرکزی کرداروں کے گرد گھیرا تنگ، تحقیقات شروع

اسلام آباد: نیب راولپنڈی نے پٹرول بحران کی تحقیقات شروع کردیں اور سیکرٹری پیٹرولیم سے پٹرول انکوائری کمیشن کی مصدقہ رپورٹ 26 اپریل تک طلب کرلی ہے۔

پیٹرول بحران کے بااثر مرکزی کرداروں کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا ، نیب راولپنڈی نے پٹرول بحران کی تحقیقات شروع کردیں۔

نیب نے سیکرٹری پیٹرولیم سے پٹرول انکوائری کمیشن کی مصدقہ رپورٹ26اپریل تک طلب کرتے ہوئے سیکرٹری پیٹرولیم کورپورٹ کےہمراہ متعلقہ دستاویزبھی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پٹرول بحران کے باعث قومی خزانے کو25ارب روپے کا نقصان ہوا، سیکرٹری پیٹرولیم،ڈی جی آئل،اوگرا ، آئل کمپنیز کے کردار سمیت ریفائنریز،مارکیٹنگ کمپنیز،انٹراسٹیٹ کمپنی افسران کی بھی انکوائری ہوگی۔

یاد رہے 2 روز قبل انکوائری کمیشن نے ملک میں حالیہ پیٹرول بحران سے متعلق رپورٹ میں اوگرا، پیٹرول ڈویژن، آئل مارکیٹںگ کمپنیوں کو پیٹرول بحران کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ذخیرہ اندوزی سے ملک میں پیٹرول بحران پیدا ہوا۔

عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کے موقع کو بحران میں تبدیل کیا گیا، عالمی سطح پر قیمتیں کم ہونے پر درآمد پر پابندی لگادی گئی اور اوگرا اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل رہا۔

انکوائری کمیشن نے سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن، ڈی جی آئل، عمران ابڑو کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین 15 کی بجائے ماہانہ بنیاد پر کرنے کی سفارش کی گئی۔

ڈی جی آئل کو غیرقانونی طور پر کوٹہ مختص کرنے میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ عمران ابڑو اور ان کا اسٹاف افسران بالا کے حکم پر عملدرامد کرتے رہے۔