کراچی میں ‘غیرت کے نام’ پر نوجوان قتل

کراچی کے علاقے جمشید کوارٹرز میں ‘غیرت کے نام’ پر 25 سالہ نوجوان کو ان کے بھائی کے سامنے گولی مار دی گئی۔پولیس کے مطابق نوجوان کو ان کے بھائی کے سامنے نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ لسبیلہ میں نعمان مسجد کے قریب 25 سالہ عمران حمیداللہ کو نامعلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں نے گولی ماردی۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے 5 فائر کیے لیکن عمران کو ایک گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔
قمرزیب ستی نےکہا کہ قتل بظاہر ذاتی دشمنی کا شاخسانہ نظر آتا ہے۔
ایک اور عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نوجوان کو نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

نوجوان کی لاش کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے ڈاکٹر رتھ فاؤ سول ہسپتال کراچی منتقل کردیا گیا۔
پولیس افسر نے کہا کہ پولیس کو قاتلوں کے حوالے سے اشارے مل گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ کلفٹن بلاک 2 میں مرین ڈرائیو پر حسنین قمر نامی شہری نے اپنی 19 سالہ بہن پر گولی چلادی جبکہ انہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ لڑکی کو شدید زخمی حالت میں جے پی ایم سی منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے اسے مردہ قرار دیا، ان کے بقول لڑکی کے سر پر گولی لگی تھی۔

پولیس نے بتایا تھا کہ ملزم کو جرم میں استعمال ہونے والے اسلحے کےساتھ گرفتار کرلیا گیا۔

کراچی کے علاقے منگھوپیر غازی گوٹھ میں یکم اگست کو ایک شہری نے غیرت کے نام پر اپنی بہن اور رشتے دار کو قتل کر دیا تھا۔

پولیس ترجمان ضلع ملیر کا کہنا تھا کہ مقتولین نے 2 روز قبل ہی ملیر سٹی کے علاقے میں رہائش اختیار کی تھی جبکہ ایک گرفتار ملزم کی نشاندہی پر ملیر سٹی کے علاقے جوہرآباد سے مرد اور عورت کی 2 سے 3 روز پرانی لاشیں برآمد ہوئیں۔

ملزم کے مطابق اس نے بکرا پیڑی سے قتل کی غرض سے چھری خریدی اور اپنی بہن کو ساتھی سمیت قتل کرنے کے بعد گھر کو باہر سے تالا لگا دیا تھا۔

ترجمان کے مطابق جب ملزم کے والد کو بیٹی کے قتل کا علم ہوا تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دی اور تھانہ منگھوپیر میں قتل کا مقدمہ درج کرایا۔

قبل ازیں جولائی میں کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں مبینہ طور پر ‘غیرت کے نام’ پر فائرنگ سے نوعمر لڑکا قتل جبکہ لڑکی زخمی ہوگئی تھی۔

پولیس کے مطابق واقعہ بلوچ گوٹھ میں پیش آیا تھا جس میں 18 سالہ زاہد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

اس سے پہلے فروری 2020 میں جاری کردہ پولیس رپورٹ میں بتایا گیا تھا گزشتہ ایک برس کے دوران سندھ میں مجموعی طور پر 108 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

پولیس کی مرتب کردہ رپورٹ 31 جنوری 2019 سے 30 جنوری 2020 کے اعداد و شمار پر مشتمل تھی جس کے مطابق غیرت کے نام پر قتل میں ملوث 126 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔