ڈریپ نے کورونا ویکسین کی اسپتالوں کو فراہمی روک دی: نجی کمپنی کا دعویٰ

کراچی میں نجی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی درآمد کی گئی کورونا ویکسین کو ڈریپ نے اسپتالوں کو فراہم کرنے سے فی الحال روک دیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)کے بروقت اقدامات نہ کرنے کے باعث ویکسین کولڈ اسٹوریج میں رکھی ہے۔

کمپنی کی جانب سے کین سائنو بائیو ویکسین کی 10 ہزار خوراکیں چین سے درآمد کی گئی ہیں، نجی کمپنی نے کراچی، لاہور اور اسلا م آباد میں موجود تین اسپتالوں سے معاہدہ کیا ہوا ہے تاہم کاغذی کارروائی میں تاخیر کے باعث ویکسین کو کولڈ اسٹوریج میں رکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب ڈریپ ذرائع کے مطابق ویکسین کے نمونے بائیو لوجیکل ویری فکیشن کے لیے نیشنل بائیولوجیکل لیب بھیجے گئے ہیں اس لیے جب تک این بی ایل کی جانب سے سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائےگا تب تک ویکسین کو بیچنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈریپ کے ذرائع کا کہنا ہےکہ ڈریپ کی اجازت قیمت اور این بی ایل کے سرٹیفکیٹ سے مشروط ہے، امید ہے کہ جلد ہی معاملہ حل ہوجائے گا۔