ضمانت منظور ہونے کے باوجود شہباز شریف کو رہائی کا پروانہ نہ مل سکا

لاہور: آمدن سے زائداثاثہ جات کیس میں ضمانت منظور ہونے کے بعد بھی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائی ممکن نہ ہوسکی ہے۔

ڈویژنل بینچ کے ججز کی جانب سے ابھی تک شہباز شریف کی ضمانت کے آرڈر پر دستخط نہیں کئےگئے ہیں جس کے باعث ان کی رہائی نہ ہوسکی ہے، اور وہ تا حال کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔

جب جسٹس سرفراز ڈوگر نے ضمانت منظوری کا مختصر فیصلہ لکھ کر جسٹس اسجد جاوید گھرال کے پاس بھجوایا تو انہوں نے دستخط نہیں کیے جس کے بعد جمعرات کو جسٹس اسجد جاوید گھرال ہائیکورٹ میں آئے اور بطور سنگل بینچ کیسز کی سماعت کی لیکن ڈویژن بینچ میں نہیں گئے جس کی وجہ سے کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی۔

جسٹس اسجد جاوید گھرال نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے چیف جسٹس قاسم خان کو آگاہ کر دیا ہے، جس کے بعد اب بینچ کے سربراہ جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرال اپنا اپنا الگ الگ فیصلہ لکھ کر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھیجیں گے جو اس کے بعد شہباز شریف ضمانت کیس کو ریفری جج کے پاس ارسال کریں گے، اب ریفری جج شہباز شریف کی ضمانت کیس کا فیصلہ سنائے گا۔

واضح رہے کہ چودہ اپریل کو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل بینچ نے شہباز شریف کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں درخواست ضمانت پر طویل سماعت کے بعد 50، 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض درخواست منظور کرلی تھی۔