لاڑکانہ: خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت نہ ہوسکی، ملزمان رہا

لاڑکانہ میں 12 مارچ کو نجی اسپتال میں خاتون سے مبینہ زیادتی میڈیکل رپورٹ میں ثابت نہیں ہو سکی جس کے بعد ملزمان کو ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

12 مارچ کو 24 سالہ متاثرہ خاتون نے نجی اسپتال کے عملے کے ایک رکن پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے ٹانگ کے آپریشن سے قبل زیادتی کی ہے۔ خاتون کے شوہر کی درخواست پر سچل تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی جب کہ چانڈکا اسپتال کے پولیس سرجن نے اپنی رپورٹ میں زیادتی کو مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں کراچی: 16 سالہ لڑکی سے زبردستی گھر میں گھس کر زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

بعد ازاں اعلیٰ حکام کی ہدایت پر لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز جامشورو سے ڈی این اے کروایا گیا جو ملزمان سے میچ نہیں ہوا۔ ملزمان کے ڈی این اے کے سیمپل سرکاری اسپتال چانڈکا میڈیکل کالج اسپتال کی جانب سے لمس کو بھیجے گئے تھے اور ان نمونوں سے بھی زیادتی ثابت نہیں ہوئی۔ پولیس کا کہناہےکہ اس واقعے کا کوئی گواہ نہیں ہے صرف خاتون اور اس کے شوہرکا الزام ہے۔